Hum To Chalay Mandi
ہم اور ہمارے چچا ہمیشہ بیل لایا کرتے تھے اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ اپنا لڑکپن یاد کرتا ہوں، یادوں کی رسی کھولتا ہوں تو لوسن اور سوکھے چارے کی خوشبو سے ذہن مہک جاتا ہے۔ بیل کی گردن میں پڑی گھنٹی اور پیروں کی جھانجھر بج اٹھتی ہے۔ قربانی میں کئی دن باقی ہوتے، مگر بچوں نے ایک ہی رٹ لگائی ہوتی ہماری گائے کب آئے گی؟ جانور ابھی آیا نہیں کہ اس کی سجاوٹ کا سامان جمع ہونا شروع ہوجاتا۔
گلی میں کسی کے بکرا، گائے اور بیل گاڑی سے اترتا تو بچے شور مچانے لگتے۔ بچوں کی پڑھائی کیسی جا رہی ہے کہ بجائے منڈی کیسی جا رہی ہے؟ کا سیزن چل رہا ہوتا۔ بچوں کے غول کے غول جانوروں کے پیچھے ادھر سے ادھر شور مچاتے پھرتے۔ پہلے قربانی پر دکھاوا اور مقابلہ بازی نہ تھی، سنت ابراہیمی کے ساتھ نیت ابراہیمی بھی کار فرما رہتی۔
قربانی کی روح سادگی میں تھی۔ گوشت نہیں تلا کرتا تھا، نیت کو بانٹ میں رکھا جاتا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ جب دس نمبر لیاقت آباد پر مسجد شہداء کے ساتھ بڑے گراونڈ میں منڈی لگا کرتی تھی۔ ہم سب چچا کے ساتھ منڈی جایا کرتے تھے۔ میں اور میرا چچازاد بھائی بچوں میں سب سے بڑے ہوتے۔
منڈی جانے کے لیے بچوں کے نام فائنل ہونے کے بعد، نہ جانے والے بچوں کو کوئی رشوت دی جاتی یا پھر گھر سے........
