menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Supply Chain Ki Behri Bisat

19 0
tuesday

سپلائی چین کی بحری بساط

اکیسویں صدی میں عالمی طاقت کا معیار بدل چکا ہے۔ اب جنگیں صرف ٹینکوں، میزائلوں اور فوجی قوت سے نہیں جیتی جاتیں بلکہ معیشت، عالمی تجارتی راستوں اور سپلائی چین پر کنٹرول ہی اصل طاقت کی علامت بن گیا ہے۔ دنیا کی 80 فیصد سے زائد تجارت سمندری راستوں سے ہوتی ہے، جبکہ توانائی، خوراک، خام مال اور جدید ٹیکنالوجی کی ترسیل چند انتہائی حساس بحری گزرگاہوں پر منحصر ہے۔ اسی لیے باب المندب، نہر سویز، آبنائے ملاکا، بحیرہ جنوبی چین اور بالخصوص آبنائے ہرمز آج عالمی سیاست کے سب سے اہم اسٹریٹجک مراکز بن چکے ہیں۔

تاریخ بھی یہی سبق دیتی ہے۔ ابن خلدون نے صدیوں پہلے لکھا تھا کہ جو ریاستیں اپنے تجارتی راستوں پر گرفت کھو دیتی ہیں، ان کا سیاسی اور معاشی زوال ناگزیر ہو جاتا ہے۔ بعد ازاں الفریڈ تھائر مہان نے سمندری طاقت کو عالمی بالادستی کی بنیاد قرار دیا، جبکہ ہالفورڈ میکنڈر نے بھی جغرافیائی محل وقوع کی اسٹریٹجک اہمیت واضح کی۔ موجودہ عالمی منظرنامہ ان نظریات کی عملی تصویر پیش کر رہا ہے، جہاں بحری راستوں پر غلبے کی نئی دوڑ جاری ہے۔

گزشتہ چند برسوں نے عالمی سپلائی چین کی کمزوری بھی آشکار کر دی ہے۔ بحیرہ احمر میں حملوں کے باعث سینکڑوں تجارتی جہازوں نے نہر سویز کا مختصر راستہ چھوڑ کر کیپ آف گڈ ہوپ کا طویل سفر اختیار کیا، جس سے شپنگ اخراجات، انشورنس اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ اسی طرح روس-یوکرین جنگ نے بحیرہ اسود کو غذائی بحران کا مرکز بنا دیا اور اناج کی فراہمی متاثر ہونے سے متعدد ترقی پذیر ممالک شدید معاشی دباؤ کا شکار ہوئے۔

دوسری جانب امریکہ اور چین کی بڑھتی ہوئی مسابقت نے آبنائے........

© Daily Urdu