menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Wazir e Aala Punjab Ka Punjab Mein Yaksan Taraqi Ka Dawa

33 0
12.08.2026

وزیرِاعلیٰ پنجاب کا پنجاب میں یکساں ترقی کا دعویٰ

پنجاب کی وزیرِاعلیٰ مریم نواز صاحبہ کی جانب سے صوبے میں یکساں ترقی، ہر علاقے تک وسائل کی رسائی اور تمام اضلاع کو برابر اہمیت دینے کے دعوے یقیناً خوش آئند ہیں، کیونکہ کسی بھی جمہوری حکومت کی اصل کامیابی یہی ہونی چاہیے کہ اس کے فیصلوں میں کسی شہر، ضلع، خطے یا طبقے کو محرومی کا احساس نہ ہو۔ لیکن مسئلہ دعوے کا نہیں، دعوے اور زمینی حقیقت کے درمیان موجود اس فاصلے کا ہے جسے مغربی پنجاب کے لوگ برسوں سے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ اگر ترقی واقعی یکساں ہے تو پھر اٹک، تلہ گنگ، میانوالی، بھکر، ڈیرہ غازی خان، راجن پور اور دریائے سندھ کے کنارے آباد دوسرے اضلاع کے لوگ بار بار یہ سوال کیوں کرتے ہیں کہ ترقی کا رخ ان کے علاقوں کی طرف کب مڑے گا؟

اگر پنجاب واقعی سب کا ہے تو پھر لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد، گوجرانوالہ اور وسطی پنجاب کے دوسرے بڑے مراکز کے لیے ترقی کے منصوبوں کی فراوانی اور مغربی پنجاب کے لیے بنیادی ضرورتوں کی تکمیل بھی ایک مسلسل جدوجہد کیوں ہے؟ یہ سوال کسی سیاسی جماعت کی مخالفت میں نہیں، کسی فرد کی دشمنی میں نہیں اور نہ ہی کسی حکومت کو ناکام ثابت کرنے کے لیے ہے۔ یہ سوال ان لوگوں کا ہے جنہوں نے برسوں سے پنجاب کے نام پر اپنا حصہ دیا، مگر بدلے میں اکثر انتظار، وعدے اور اعلانات پائے۔ ہم اس موضوع پر پہلے بھی بارہا لکھ چکے ہیں۔ ہم نے توجہ دلائی کہ پنجاب صرف لاہور کا نام نہیں، پنجاب صرف موٹر ویز، بلند عمارتوں، خوب صورت شاہراہوں، بڑے منصوبوں اور شہری سہولتوں کا مجموعہ نہیں۔

پنجاب ان دور افتادہ بستیوں کا بھی نام ہے جہاں آج بھی ایک مریض کو بہتر علاج کے لیے کئی گھنٹے ٹوٹی ہو سڑکوں پر سفر کرنا پڑتا ہے، جہاں ایک طالب علم کو اعلیٰ تعلیم کے لیے اپنا ضلع چھوڑنا پڑتا ہے، جہاں ٹوٹی سڑک محض آمدورفت کا ذریعہ نہیں بلکہ روزگار، تعلیم، صحت اور پوری زندگی کی شہ رگ ہے، مگر یہ شہ رگ کہیں بھی سلامت نہیں ہے۔ جہاں دریائے سندھ کے کنارے رہنے والا انسان اپنے سامنے پانی کا سمندر دیکھتا ہے مگر اپنی زمین کے لیے پانی، اپنے بچوں کے لیے معیاری تعلیم، اچھی سڑک اور اپنے خاندان کے لیے مناسب طبی سہولت کو ترستا ہے۔

سوال یہ نہیں کہ حکومت نے کچھ کیا یا نہیں کیا، سوال یہ ہے کہ کیا اس نے ضرورت کے مطابق کیا؟ کیا اس نے محرومی کی شدت کو سامنے رکھ کر ترجیحات طے کیں؟ کیا اس نے پنجاب کے ہر حصے کو اس کی آبادی، پسماندگی، رقبے، جغرافیائی مشکلات اور بنیادی ضروریات کے مطابق حصہ دیا؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو مغربی پنجاب کے لوگ آج بھی اپنے سوالات لے کر کیوں کھڑے ہیں؟

مریم نواز صاحبہ! اقتدار کی کرسی پر بیٹھ کر پورے صوبے کو دیکھنا اور کسی ایک بڑے شہر کی کھڑکی سے........

© Daily Urdu