menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Silent Spring, Fitrat Ki Khamosh Cheekh

23 0
15.07.2026

"سائلنٹ سپرنگ"، فطرت کی خاموش چیخ

دنیا کی تاریخ میں بعض کتابیں ایسی ہوتی ہیں جو کسی نظریے کو جنم دیتی ہیں، بعض ایک سیاسی انقلاب کی بنیاد بنتی ہیں اور بعض انسان کو اس کی اپنی کوتاہیوں کا احساس دلاتی ہیں۔ لیکن بہت کم کتابیں ایسی لکھی گئی ہیں جنہوں نے پوری دنیا کے انسان کو پہلی مرتبہ یہ احساس دلایا ہو کہ وہ جس ترقی پر فخر کر رہا ہے، وہی ترقی اگر بے لگام ہو جائے تو زندگی کے بنیادی ستونوں کو بھی کھوکھلا کر سکتی ہے۔ امریکہ کی فکری تاریخ میں "سائلنٹ سپرنگ" انہی نادر کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔

1962ء میں ریچل کارسن نے جب یہ کتاب شائع کی تو شاید خود انہیں بھی اندازہ نہیں تھا کہ ان کے قلم سے نکلنے والے الفاظ صرف ایک کتاب تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا میں ماحولیاتی شعور کی بنیاد بن جائیں گے۔ اس کتاب نے انسان کو پہلی مرتبہ یہ سوال کرنے پر مجبور کیا کہ کیا ہر وہ چیز جو سائنس ایجاد کرے، انسان کے لیے مفید بھی ہوتی ہے؟ کیا ہر نئی کیمیائی دوا ترقی کی علامت ہے؟ کیا فصلوں کی زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے لیے زمین، پانی، پرندوں، جانوروں اور خود انسان کی صحت کو دائمی نقصان پہنچانا دانش مندی ہے؟ اس سے پہلے ماحولیات کو چند سائنس دانوں کا موضوع سمجھا جاتا تھا، لیکن "سائلنٹ سپرنگ" نے اسے عام انسان کی گفتگو کا حصہ بنا دیا۔ یہ صرف ایک کتاب نہیں تھی بلکہ انسان اور فطرت کے درمیان ٹوٹتے ہوئے رشتے کا دردناک نوحہ تھی، جس نے امریکہ سمیت پوری دنیا کو چونکا کر رکھ دیا۔

بیسویں صدی کے وسط تک امریکہ میں زرعی پیداوار بڑھانے اور بیماریوں پر قابو پانے کے لیے........

© Daily Urdu