Federalist Number 46, Markaz Aur Subon Ka Tawazun
فیڈرلسٹ نمبر 46، مرکز اور صوبوں کا توازن
امریکی آئین کی تشکیل کے دوران سب سے بڑا اعتراض یہ تھا کہ اگر ایک مضبوط وفاقی حکومت قائم کر دی گئی تو ریاستوں کی خودمختاری ختم ہو جائے گی اور تمام اختیارات مرکز کے ہاتھ میں مرتکز ہو جائیں گے۔ اس خدشے نے بہت سے لوگوں کو نئے آئین کے بارے میں پریشان کر رکھا تھا۔ فیڈرلسٹ مضامین میں جیمز میڈیسن نے اس اعتراض کا تفصیلی جواب دیا اور فیڈرلسٹ نمبر 46 اسی سلسلے کی ایک اہم تحریر ہے۔ اس مضمون میں میڈیسن نے وفاقی حکومت اور ریاستی حکومتوں کے درمیان اختیارات کے توازن کی وضاحت کی اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ امریکی نظام میں مرکز اور ریاستیں ایک دوسرے کے حریف نہیں بلکہ ایک متوازن سیاسی ڈھانچے کے دو لازمی ستون ہیں۔ ان کے نزدیک اگر اختیارات دانش مندی سے تقسیم کیے جائیں تو نہ مرکز ریاستوں کو نگل سکتا ہے اور نہ ریاستیں قومی وحدت کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فیڈرلسٹ نمبر 46 وفاقیت کے نظریے کی سب سے مؤثر اور جامع توضیحات میں شمار ہوتا ہے۔
میڈیسن نے اپنی دلیل کا آغاز انسانی اور سیاسی حقیقتوں سے کیا۔ ان کے مطابق ریاستی حکومتیں عوام کے زیادہ قریب ہوتی ہیں۔ عام شہری اپنی روزمرہ زندگی میں جن معاملات سے واسطہ رکھتے ہیں، ان کا تعلق زیادہ تر مقامی اور ریاستی اداروں سے ہوتا ہے۔ لوگوں کے کاروبار، تعلیم، مقامی قوانین، امن و امان اور دیگر کئی معاملات ریاستی حکومتوں کے دائرۂ اختیار میں آتے ہیں۔ اسی وجہ سے عوام کے دلوں میں ریاستی اداروں کے لیے ایک فطری قربت اور اعتماد پایا جاتا ہے۔ میڈیسن کا استدلال تھا کہ اگر کبھی وفاقی حکومت اپنے اختیارات سے تجاوز کرنے کی کوشش کرے تو ریاستی حکومتیں اور ان کے ساتھ وابستہ عوام اس کے خلاف مزاحمت کر سکیں گے۔ ان کے نزدیک........
