menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Bill Bijli Kam Karva Lo

28 0
04.03.2026

بیروزگاری کبھی کبھی انسان کو ایسے ایسے خیالات سے روشناس کرواتی ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے، کئی مہینوں کی بیروزگاری سے دوچار ایک صاحب نے فیصلہ کیا کہ قسمت روزگار نہیں دے رہی تو کیوں نہ قسمت ہی بدل دی جائے؟ مختلف آئیڈیاز پر سوچتے پیر بننے کا نسخہ موزوں نظر آیا، سرمایہ درکار مگر جیب میں ہوا کے سوا کچھ نہیں تھا، مگر ہمارے ہیرو بڑے ذہین نکلے، ان کے بقول اصل سرمایہ پیسہ نہیں بلکہ کہانی ہوتی ہے، چنانچہ ایک چھوٹا کمرہ کرائے پر لیا، ایک سبز چادر خریدی، دو تین موٹے موٹے تسبیح کے دانے لے آئے اور اپنے نام کے ساتھ حضرت قبلہ کا سابقہ لگا کر پیری مریدی کی دکان شروع کرلی، تھوڑی سی مزید سرمایہ کاری کے بعد چند مرید خاص تیار کئے جو دراصل ان کے دوست تھے، ان کا کام صرف یہ تھا کہ جہاں بیٹھیں وہاں پیر صاحب کی کرامات کا ذکر کریں۔

ایک کہتا: "میرے چچا کی بکریاں تین سال سے دودھ نہیں دے رہی تھیں، حضرت کے دم سے اگلے دن ہی دوگنا دودھ دینے لگیں"۔ دوسرا فوراً اضافہ کرتا: "میرے کزن کو نوکری نہیں مل رہی تھی، حضرت نے ایک پھونک ماری اور اگلے ہفتے نوکری کا خط آ گیا"۔ تیسرا مزید رنگ چڑھاتا: "میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے، حضرت کے ہاتھ میں ایسی برکت ہے کہ چائے بھی پی لیں تو کپ میں خوشبو رہ جاتی ہے"۔ ایسی کرامات لوگ حیرت سے سنتے، سر ہلاتے اور دل میں سوچتے کہ بڑے پہنچے ہوئے بزرگ ہیں، آہستہ آہستہ لوگ اپنی حاجت روائی کیلئے آنے لگے، پیر صاحب بڑی سنجیدگی سے تسبیح گھماتے اور گہری آواز میں فرماتے: "بیٹا۔۔ صبر کرو۔۔ اللہ بہتر کرے گا"۔ لوگ اس جملے میں ایسی روحانیت محسوس کرتے جیسے ابھی آسمان سے وحی نازل ہوئی ہو، چند ہفتوں میں صورتحال یہ ہوگئی کہ جو شخص کل تک بیروزگاری سے پریشان تھا، آج اس کے دربار کے باہر جوتوں کی قطار لگنے لگی۔

ایک دن ایک پرانے دوست نے پوچھا: "یار سچ سچ بتاؤ، تم واقعی پیر بن گئے ہو یا........

© Daily Urdu