Than You David
انگلستان کے شہر لیسٹر میں انیس سو سینتیس کے موسمِ بہار کی صبح ہے۔ گیارہ سال کا ایک دبلا پتلا لڑکا، سکول جانے کی بجائے، یونیورسٹی کیمپس کے کونے میں واقع ایک تالاب پر جھکا کھڑا ہے۔ ہاتھ میں ایک شیشے کا مرتبان ہے، سکول یونیفارم پر کیچڑ کے داغ ہیں اور آنکھوں میں وہ غیر معمولی توجہ جو شکاری اور سائنس دان دونوں میں مشترک ہوتی ہے۔ تالاب میں کوئی ایک نومولود نیوٹ، یعنی پانی کا چھوٹا سا گرگٹ نما جانور، ہلکی سی دم ہلاتا ہوا تیر رہا ہے۔ لڑکا بھی اپنا سانس روکے ہوئے ہے۔ ایک، دو، تین گنتی اور اس کا ہاتھ، تجربہ کار جال انداز کی طرح، پانی میں ڈوب جاتا ہے۔ مرتبان میں ایک نیوٹ آ چکا ہے۔ لڑکا فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ مرتبان کو بند کرتا ہے، اپنے ہاتھ جھاڑتا ہے اور اپنے دل میں سوچتا ہے۔ یونیورسٹی کے زولوجی ڈیپارٹمنٹ کو نیوٹس درکار ہیں، تین پینس فی نیوٹ کی قیمت پر، آج کا کاروبار کامیاب رہا۔
لڑکے کا نام ڈیوڈ ایٹن برو ہے۔ وہ تالاب جس کے کنارے وہ کھڑا ہے، اس سے ایک سو میٹر کی دوری پر اس کا اپنا گھر ہے، یعنی کالج ہاؤس، جہاں اس کے والد فریڈرک ایٹن برو یونیورسٹی کالج لیسٹر کے پرنسپل ہیں اور وہ گھر، یعنی کالج ہاؤس، کبھی ایک ایسی پاگل خانے کی عمارت تھا جہاں وکٹورین دور میں ذہنی مریض زنجیروں کے ساتھ رکھے جاتے تھے۔ گھر کے کچھ تہہ خانوں میں ابھی بھی پرانے گدوں والے کمرے، یعنی پیڈڈ سیلز، باقی ہیں، جن میں مریض اپنا سر دیواروں سے ٹکراتے تھے۔ ڈیوڈ کا بڑا بھائی رچرڈ، جو بڑا ہو کر آسکر یافتہ اداکار اور ہدایتکار بنے گا، اس کے بچپن کی شرارتوں میں سے ایک یہ تھی کہ اس نے ایک دن ڈیوڈ کو دھکا دے کر ان میں سے ایک کمرے میں بند کر دیا تھا اور باہر سے دروازہ مقفل کرکے ہنستا رہا تھا۔ ڈیوڈ نے اندر سے دروازہ پیٹا، چیخیں ماریں اور آخرکار جب رچرڈ نے دروازہ کھولا، تو ڈیوڈ نے ایک عجیب سی بات کہی تھی۔ ادھر اندر جو لوگ رہا کرتے تھے، انہوں نے دیواروں پر کیا کھرچا ہوا ہے، یہ تمہیں دیکھنا چاہیے۔ یعنی ایک سات یا آٹھ سال کا بچہ، پاگل خانے کے پرانے کمرے میں قید ہو کر بھی، خوفزدہ نہیں تھا۔ وہ مشاہدہ کر رہا تھا۔
یہ مشاہدے کی صلاحیت، یعنی خوف کی جگہ تجسس کا گھر بنا دینا، وہ غیر معمولی خصوصیت ہے جو اس لڑکے کو، تقریباً ایک صدی بعد، آج آٹھ مئی دو ہزار چھبیس کو، اپنے سو سال کے سفر تک لے آئی ہے۔
سر ڈیوڈ ایٹن برو آج ایک سو سال کے ہو گئے ہیں۔
اور یہ صرف ایک سالگرہ نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا غیر معمولی دن ہے جس میں زمین کے سات ارب باشندے، براعظموں، مذاہب، نسلوں اور سیاسی نظریات سے بالاتر ہو کر، ایک ہی شخص کا نام احترام سے لیتے ہیں۔ کیپ ٹاؤن کی ساحلوں سے لے کر ٹوکیو کے بلند و بالا اپارٹمنٹس تک، نیویارک کے سکولوں سے لے کر کیپ ہارن کے ماہی گیر کنبوں تک، لاہور کے بچوں سے لے کر ممبئی کے دادا دادیوں تک، آج لاکھوں لوگ اپنی ٹیلی ویژن کی سکرینوں پر اس آدمی کو دیکھ رہے ہیں جس کی آواز کسی پُرانے دوست کی طرح ان کے گھروں میں دہائیوں سے گونج رہی ہے۔
اور سوال یہ ہے کہ یہ کیسے ہوا؟ ایک گاؤں نما یونیورسٹی کیمپس میں نیوٹ پکڑنے والا بچہ، چھ دہائیوں بعد، انسانی تاریخ کا سب سے زیادہ سنا جانے والا نیچر کا ایکسپرٹ کیسے بن گیا؟ اور اس سے بڑا سوال یہ ہے کہ ایک ایسی صدی میں، جس میں دو عالمی جنگیں، چار وبائیں، ایک سو سے زیادہ مقامی جنگیں، آب و ہوا کی تباہی اور انسانی نسل کی نظریاتی تقسیم ہمارے سامنے سے گزری ہیں، یہ اکیلا آدمی ایک منتشر دنیا کو کیسے اکٹھا کرلیتا ہے؟
اس کا جواب اس کے بچپن کے کالج ہاؤس میں دفن ہے۔ مگر صرف وہاں نہیں۔
سال انیس سو چھتیس میں ڈیوڈ کی عمر دس سال تھی۔ لیسٹر کے ڈی مونٹ فورٹ ہال میں ایک عجیب آدمی نے لیکچر دینا تھا۔ نام تھا گرے آؤل۔ یعنی سرمئی الو۔ یہ شخص خود کو کینیڈا کے قبائلی نسل کا بتاتا تھا، اپنے سر پر پنکھ لگاتا تھا، چمڑے کے کپڑے پہنتا تھا اور ایک ہی موضوع پر بات کرتا تھا۔ کہ اگر انسان نے قدرت کے ساتھ یہ سلوک جاری رکھا، تو وہ اپنی ماں ہی کا گلا گھونٹ دے گا۔ ڈیوڈ اور رچرڈ، دونوں بھائی، اپنے والد کے ساتھ یہ لیکچر سننے گئے۔ ہال بھرا ہوا تھا، نوجوان لڑکے بور ہو رہے تھے، مگر ڈیوڈ کے کانوں میں وہ ایک جملہ گھنٹی کی طرح بجا، جو شاید اس کی پوری زندگی کا اصول بن گیا۔ آپ ایک قبیلے سے تعلق نہیں رکھتے۔ آپ ایک نسل سے تعلق نہیں رکھتے۔ آپ زمین کے بیٹے ہیں اور زمین آپ کی ماں ہے۔
بعد میں پتہ چلا کہ گرے آؤل دراصل ایک انگریز شخص آرچی بیلانی تھا، جس نے کینیڈا میں رہ کر قبائلی شناخت اپنا لی تھی۔ یہ ایک قسم کا تہذیبی فریب تھا۔ مگر فریب کے باوجود اس کا پیغام سچا تھا اور دس سال کے ڈیوڈ کے دل میں وہ پیغام ایک ایسا بیج بن گیا جو نوّے سال بعد بھی اپنی شاخیں پھیلا رہا ہے۔
سال انیس سو انتالیس آیا۔ یورپ پر جنگ کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ ہٹلر کے فوجی پولینڈ کی سرحدوں پر ہیں۔ یہودی خاندان جان بچانے کے لیے بھاگ رہے ہیں۔ ڈیوڈ کے والدین، فریڈرک اور میری ایٹن برو، نے ایک عجیب فیصلہ کیا۔ انہوں نے یورپ سے دو یہودی پناہ گزین لڑکیوں کو، یعنی ہلگا اور آئرین بیجاخ کو، کنڈرٹرانسپورٹ کے ذریعے اگست انیس سو انتالیس میں اپنے گھر میں لے لیا۔ ہلگا کی عمر بارہ سال تھی، آئرین کی تیرہ سال۔ ان بچیوں کی والدہ........
