Mazahmat, Zindabad
ایران یہ جنگ جیت رہا ہے۔ یہ جملہ عجیب لگتا ہے۔ ایک ملک جس کے شہر جل رہے ہیں، جس کا سپریم لیڈر قتل ہو چکا ہے، جس پر بی ٹو بمبار بلا روک ٹوک اڑ رہے ہیں، وہ جیت رہا ہے؟
ہاں۔ کیونکہ جنگ صرف بموں سے نہیں جیتی جاتی۔ جنگ اس وقت جیتی جاتی ہے جب سامنے والا یہ سوچنے پر مجبور ہو جائے کہ اب آگے کیا کروں۔ ٹرمپ آج یہی سوچ رہا ہے اور جب طاقتور سوچنے لگے تو سمجھ لیجیے کہ کمزور نے اپنا کام کر دیا۔
آبنائے ہرمز۔ یہ نام یاد رکھیے۔ کیونکہ اس تنگ سے راستے میں آج دنیا کی قسمت پھنسی ہوئی ہے۔
باضابطہ طور پر آبنائے ہرمز بند نہیں ہوئی۔ لیکن عملی طور پر تجارتی بحری جہازوں کے لیے بند ہے۔ اکیس ملین بیرل تیل روزانہ اس راستے سے گزرتا تھا۔ دنیا کے تیل کی تجارت کا پانچواں حصہ۔ لیکن آج انشورنس کمپنیاں کروڑوں ڈالر کے جہازوں پر ڈرونز، راکٹوں اور بارودی سرنگوں کا خطرہ قبول کرنے کو تیار نہیں۔ امریکی بحریہ، اپنی تمام تر طاقت کے باوجود، تجارتی جہازوں کی حفاظت کا کوئی طریقہ نہیں نکال سکی۔
دنیا کو اس کے سب سے اہم ایندھن سے کاٹنے اور نہ کاٹنے کے درمیان صرف ایک پائپ لائن کھڑی ہے۔ سعودی عرب سے گزرنے والی پائپ لائن جو پوری صلاحیت پر ستر لاکھ بیرل........
