menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

King Charles Ki Master Class

28 0
01.05.2026

کنگ چارلس کی ماسٹر کلاس

زندگی میں بہت سے گلوبل لیڈرز کو براہ راست بولتے سنا، ٹی وی پر دیکھا، مگر کنگ چارلس کا امریکی کانگریس سے خطاب ایک ماسٹر کلاس تھی۔ اگر دیکھ سکیں تو ضرور دیکھیں، نیکسٹ لیول!

28 اپریل کی شام لندن میں، میں اپنے کمرے میں بیٹھا تھا۔ موسم بدلا ہوا، باہر ہلکی پھوار، چائے کا کپ ٹھنڈا ہو رہا تھا اور ٹیلی ویژن پر سی این این کا براہِ راست نشریہ چل رہا تھا۔ سکرین پر واشنگٹن کا کیپٹل ہل تھا اور کانگریس کے مشترکہ ایوان میں شاہ چارلس سوم اسٹیج پر داخل ہو رہے تھے۔ پیچھے ڈاؤننگ سٹریٹ کا وزیراعظم نہیں، ساتھ کوئی کابینہ کا وفد نہیں، صرف ملکہ کیملا اور بکنگھم پیلس کا روایتی پروٹوکول۔

امریکی نائب صدر اور سپیکر آف دی ہاؤس مائیک جانسن دائیں جانب۔ کانگریس مین، سینیٹرز، فوجی جنرل، سپریم کورٹ کے ججز، سب اُٹھ کر تالیاں بجا رہے تھے۔ امریکی تاریخ میں یہ نواں موقع تھا جب ایک برطانوی بادشاہ نے کانگریس سے براہِ راست خطاب کیا اور پہلا موقع شاہ چارلس کا تھا۔

شاہ نے پوڈیم تک پہنچ کر ایک لمحے کا توقف کیا۔ ہلکا سر ہلایا اور بات شروع ہوگئی۔ مدھم آواز، ٹھہراؤ اور ایک ایسا انگریزی لہجہ جو پانچ صدیوں کی تربیت سے نکلتا ہے، جسے سیکھا نہیں جا سکتا، وراثت میں ملتا ہے۔

تقریر اکتالیس منٹ کی تھی۔ اُس میں چودہ مرتبہ ہال اِجتماعی کھڑے ہو کر تالی بجانے پر مجبور ہوا (اسٹینڈنگ اوویشن)۔ یہ کانگریس کی روایت میں کسی بھی غیر امریکی مقرر کے لیے ایک معیار سے بلند ترین تعداد ہے اور ہر سٹینڈنگ اوویشن، ایک خاص فقرے پر آئی تھی اور ہر فقرہ ایک بادشاہی پیغام تھا، چائے کے بھاپ سے بھرا ہوا تیر۔

پہلا تیر دوسرے ہی منٹ میں چلا۔ شاہ نے کہا، "تین صدیاں پہلے میرے بزرگوں نے، آپ کے بزرگوں سے، ایک ضروری مشورہ کیا تھا۔ وہ مشورہ یہ تھا کہ بادشاہت سے فاصلہ رکھنا چاہیے۔ آج کے دن، میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں اُس مشورے سے پوری طرح متفق ہوں"۔ ہال میں ایک سیکنڈ کا سکوت آیا۔ پھر ہنسی۔ پھر تالیاں۔ پہلی سٹینڈنگ اوویشن۔ یہ برطانوی مزاح کا کلاسیک سیلف ڈی پری کیشن، تھا، یعنی اپنا مذاق خود اڑانا اور پنہاں پیغام؟"ہم نے سیکھ لیا، آپ کو بھی سیکھنا چاہیے"۔

پھر کسی موڑ پر وہ مرکزی جملہ آیا۔ "ایک بندے کی مرضی سے، بلکہ بہت سوں کی مشاورت سے"۔ "نوٹ بائی دی وِل آف ون، بٹ بائی دی ڈی لیبریشن آف مینی"۔ ہال میں دو سیکنڈ کا سکوت۔ پھر تالیاں۔ مگر یہ تالیاں پہلے کی تالیوں جیسی نہیں تھیں۔ یہ تالیاں ایسی تھیں جیسے ہال نے فقرہ پہلے سُنا، پھر سمجھا، پھر یاد آیا کہ یہ فقرہ کس کے بارے میں تھا اور پھر تالی بجائی۔

پانچویں سٹینڈنگ اوویشن پر شاہ نے میگنا کارٹا کا ذکر کیا۔ "1215 میں ایک کمزور بادشاہ کو، ایک طاقتور بیرنوں کے گروہ نے، ایک کاغذ کے ٹکڑے پر دستخط کرنے پر مجبور کیا۔ بادشاہ کا نام جان تھا اور وہ بادشاہ بہت ناراض تھا"۔ یہاں شاہ نے ایک سیکنڈ کا توقف کیا، تھوڑی سی شرارتی مسکراہٹ آنکھوں میں آئی اور بولے، "میں اپنے ایک پرکھ کا دفاع کرنے نہیں........

© Daily Urdu