Brian Lara Ke Sath Aik Shaam
برائن لارا کے ساتھ ایک شام
کچھ شامیں کیلنڈر میں نہیں، دل کے نہاں خانوں میں درج ہوتی ہیں۔ کچھ ہفتے پہلے جیمز سکول کے مالک سنی ورکی نے اپنے گھر پر ڈنر پر دعوت دی۔ سرے، چرٹسی کے سبزہ زاروں میں چھپا وہ محل نما گھر ایکڑوں پر محیط تھا۔ سنی ورکی کیرالہ کا وہ لڑکا ہے جو دبئی گیا اور اپنے اچھوتے ایجوکیشن سسٹم کی بنیاد پر دنیا کے سب سے بڑے نجی اسکولوں کے سلسلے کا مالک بن گیا۔ آج دنیا بھر میں لاکھوں بچے اُس کے اسکولوں میں پڑھتے ہیں، فوربز اس کی دولت کا تخمینہ پانچ ارب ڈالرز کے آس پاس لگاتا ہے ہر سال وہ دنیا کے بہترین استاد کو دس لاکھ ڈالر کا گلوبل ٹیچر پرائز دیتا ہے۔ جس آدمی نے تعلیم کو سلطنت بنایا، اُس کے دستر خوان پر اُس شام دنیا کے نامی گرامی لوگ مدعو تھے۔ سفیر، فلمی ستارے، کاروباری اور کرکٹر۔
فانوسوں کی روشنی میں چہرے دمک رہے تھے۔ عمران خان کا بیٹا قاسم خان، ہالی ووڈ، بالی ووڈ کے نامور لوگ، کیڈول جیسے ارب پتی، میں نے اپنے بائیں جانب نظر دوڑائی تو ایک دیکھا بھالا چہرہ نظر آیا۔
پرنس آف ٹرینیڈاڈ۔ وہ آدمی جس کے نام کے آگے آج بھی کرکٹ کے دو ایسے ریکارڈ ڑے ہیں جنہیں تیس برس میں کوئی چھو نہیں سکا۔
کھانے کی میز پر ہم اکٹھے تھے۔ زرا قریب سے لارا سے میری پہلی ملاقات تھی۔ درمیانہ قد، دھیمی آواز اور آنکھوں میں وہ ٹھہراؤ جو صرف اُن لوگوں میں آتا ہے جو اپنی جنگ جیت کر میدان سے نکلے ہوں۔
میں نے اُس کی کہانی چھیڑی اور اُس نے دل کھول دیا۔
سانتا کروز، ٹرینیڈاڈ کا ایک گاؤں۔ گیارہ بہن بھائیوں میں دسواں بچہ۔ باپ بنٹی لارا نے چھ برس کے بیٹے کا ہاتھ پکڑا اور کرکٹ کی مقامی اکیڈمی میں داخل کرا دیا۔ ہر اتوار وہ بیٹے کو خود لے کر جاتا اور پھر قدرت کا وہ ستم جو لارا کی آواز کو آج بھی بھاری کر دیتا ہے۔ 1989 میں، جب برائن انٹرنیشنل کرکٹ کی دہلیز پر کھڑا تھا، باپ........
