Bharat Ko Pakistan Kyun Charh Gaya Hai?
بھارت کو پاکستان کیوں چڑھ گیا ہے؟
اسی ہفتے بھارت کے انگریزی اخبار دی ٹریبیون چنڈی گڑھ میں ایک دلچسپ کالم شائع ہوا۔ لکھنے والی جیوتی ملہوترا ہیں جو بھارتی سفارتی صحافت میں ایک جانا پہچانا نام ہیں۔ کالم کا عنوان تھا "India's obsession with Pakistan"، بھارت کے سر پر پاکستان کا جنون کیوں سوار ہے؟ عنوان ہی اتنا دلچسپ تھا کہ میں نے فوراً پڑھا۔
دراصل جیوتی ملہوترا کا کہنا ہے کہ پاکستان اس وقت اپنی جسامت سے بہت اونچے مکے مار رہا ہے اور بھارت اپنی طاقت سے بہت نیچے۔ وہ لکھتی ہیں کہ پرانے دنوں میں جب عام بھارتی اور پاکستانی ایک دوسرے سے مل سکتے تھے، لاہور میں لنچ، پٹیالہ میں ڈنر، کراچی میں شادیاں، قادیان میں جنازے، تب پاکستانی اکثر چین اور پاکستان کے تعلقات پر فخر سے بات کرتے تھے۔ "ہمالیہ سے اونچی، سمندر سے گہری" دوستی کا ذکر ہوتا تھا۔ آج کی دنیا میں یہ جملہ فلم دھرندھر تھری کے ڈائیلاگ جیسا لگتا ہے مگر اس کے پیچھے ایک بہت گہری حقیقت ہے۔
ملہوترا لکھتی ہیں کہ سیرینا ہوٹل میں صرف تین ملک نمائندگی کر رہے ہیں۔۔ امریکہ، ایران اور پاکستان۔ مگر اس کمرے کے باہر کئی اور بھی ہیں جو سائے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔۔ چین، روس، اسرائیل، لبنان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات۔ ملہوترا پوچھتی ہیں کہ چین اس کمرے میں نہیں ہے مگر کمرے کے باہر سے طاقت کا کھیل کھیل رہا ہے۔ چین نے پاکستان کو دہائیوں سے سہارا دیا ہے۔۔ سڑکیں، بندرگاہیں، فضائیہ، ایٹمی اور میزائل پروگرام۔ پاکستانی خود مانتے ہیں۔۔ آف دی ریکارڈ، ایف سکس ریسٹورنٹ میں کافی پیتے ہوئے۔۔ کہ چین ان کے "آل ویدر فرینڈ" ہیں اور وہ اس کی "کلائنٹ........
