menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Bhai Tao Jari Hai

34 0
28.04.2026

اسلام آباد کے سرینا ہوٹل کے ایک کمرے میں ایک تکونی میز رکھی ہوئی تھی۔ تین کنارے، تین کرسیاں، تین جھنڈے۔ ایک طرف امریکی، ایک طرف ایرانی اور ایک طرف پاکستانی۔ یہ میز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ذاتی طور پر معائنہ کی تھی۔ ایک تاریخی دستخط کے لیے۔ ایک ایسا دستخط جو دو مہینے کی جنگ، ایک محاصرے اور ایک ٹوٹتی ہوئی عالمی منڈی کے بعد، اسلام آباد کو دنیا کے نقشے پر اُسی طرح ثبت کر دیتا جس طرح اوسلو، کیمپ ڈیوڈ، یا ڈیٹن ثبت ہیں۔

یہ میز اب وہاں موجود نہیں ہے۔

پچھلے ہفتے کے آخر میں، ایک امریکی اخبار کے نمائندے نے اس کمرے میں قدم رکھا، تو میز کے کنارے کھول دیے گئے تھے اور تینوں جھنڈے سلیقے سے تہہ کیے جا رہے تھے۔ امریکی وفد کبھی نہیں آیا تھا۔ سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اپنی پروازوں سے چند گھنٹے پہلے روک لیے گئے تھے۔ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھ دیا، "ہمارے پاس سارے پتے ہیں۔ ایرانی فون کر سکتے ہیں اگر چاہیں" اور پھر فاکس نیوز سے کہا، "اٹھارہ گھنٹے کی پرواز پر کیوں جائیں، صرف گپ شپ کے لیے؟"

پاکستانی فضائی اڈے سے دو سی ون سیون بوئنگ گلوب ماسٹر طیارے امریکی سکیورٹی ساز و سامان لے کر واپس روانہ ہو گئے۔ ایرانی وفد کو رات میرئٹ ہوٹل سے روانہ کرکے اپنے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ پہلے مسقط، پھر دوبارہ اسلام آباد اور پیر کے روز سینٹ پیٹرز برگ کے بورس یلتسن پریذیڈنشل لائبریری بھیج دیا گیا۔ وہاں پوتن منتظر تھے۔

دنیا بھر کے میڈیا نے سرخی لگا دی۔ "اسلام آباد عمل ناکام"۔ "ٹرمپ نے بات چیت ٹھکرا دی"۔ "ایران رُوس کی طرف لپکا"۔ گولڈ مین سیکس نے برینٹ کا تخمینہ نوّے ڈالر فی بیرل تک بڑھا دیا۔ تیل ایک سو آٹھ ڈالر پر چلا گیا۔ ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد جنگ سے پہلے کے پانچ فیصد پر آ گئی ہے۔

میں ابھی بھی پراعتماد ہوں کہ ہم ایران امریکا ڈیل کے زیادہ قریب پہنچ چکے ہیں۔ ذرا تین تہوں میں اس صورتِ حال کو دیکھتے ہیں۔

پہلی تہہ یہ ہے کہ ایران نے پچھلے ہفتے ایک ایسی پیش کش کی ہے جو اس جنگ کی اب تک کی سب سے بڑی پیش رفت ہے۔ الجزیرہ، اے پی، واشنگٹن پوسٹ اور سب سے پہلے ایکسیوس نے، جس نے یہ خبر سب سے پہلے بریک کی، رپورٹ کیا ہے کہ تہران نے مذاکراتی میز پر ایک نیا فارمولا رکھ........

© Daily Urdu