Malakwal Se New York Tak (4)
ملکوال سے نیویارک تک (4)
سامنے نیویارک کی جگمگاتی روشنیاں تھیں، اردگرد دنیا بھر سے آئے ہوئے لوگ تھے اور میں اس شہر کے قلب میں کھڑا تھا جسے دیکھنے کی خواہش مدتوں سے میرے دل میں بسی ہوئی تھی۔ میں نے بے اختیار آسمان کی طرف دیکھا اور دل کی گہرائیوں سے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ جب میں ٹائمز اسکوائر پہنچا تو دن کے تقریباً گیارہ بج چکے تھے۔ موسم انتہائی خوشگوار تھا اور چاروں طرف انسانوں کا ایک سمندر دکھائی دے رہا تھا۔ ہر طرف سر ہی سر نظر آ رہے تھے، کوئی تصویریں بنا رہا تھا، کوئی ویڈیو ریکارڈ کر رہا تھا اور کوئی اس شہر کی روشنیوں اور رونق کو اپنی آنکھوں میں محفوظ کر رہا تھا۔
26 جون کا دن میرے لیے اس لیے بھی خاص تھا کہ اس روز میں نے پہلی مرتبہ ٹائمز اسکوائر کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ ٹائمز اسکوائر پہنچ کر چند لمحوں کے لیے مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں کسی شہر میں نہیں بلکہ دنیا کے ایک ایسے عظیم اسٹیج پر آ کھڑا ہوا ہوں جہاں ہر لمحہ ایک نیا منظر جنم لیتا اور اگلے ہی لمحے بدل جاتا ہے۔ چاروں طرف بلند و بالا عمارتیں، دیوہیکل ڈیجیٹل اسکرینیں، جگمگاتے اشتہارات، ہزاروں سیاح، مختلف زبانیں بولتے لوگ، موسیقی کی آوازیں، ٹریفک کا شور، براڈوے کے تھیٹر، دکانیں اور کیمروں سے تصویریں بناتے سیاح، سب کچھ بیک وقت جاری تھا۔
میں کچھ دیر خاموش کھڑا اس منظر کو دیکھتا رہا۔ دل نے کہا: "یہ وہی ٹائمز اسکوائر ہے جس کا ذکر دنیا بھر کے سفرناموں میں پڑھا، جسے فلموں میں دیکھا اور جس کی روشنیاں ہمیشہ نیویارک کی پہچان بن کر سامنے آتی رہی ہیں۔ آج میں خود اس کے بیچ کھڑا ہوں"۔
یہ احساس ہی اپنے اندر ایک عجیب سی خوشی لیے ہوئے تھا۔ وہاں سے گزرتے ہوئے ایک جوڑے سے میں نے درخواست کی کہ اگر وہ میری ایک تصویر بنا دیں تو مہربانی ہوگی۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے میری درخواست قبول کی اور بڑی محبت سے میری تصویر بنا دی۔ سفر میں کبھی کبھی اجنبی لوگوں کی چند لمحوں کی مہربانی بھی یادوں کا مستقل حصہ بن جاتی ہے۔ میں 42ویں اسٹریٹ پر آہستہ آہستہ چلتا ہوا ٹائمز اسکوائر کے اس مرکزی حصے کی طرف بڑھا جہاں مشہور سرخ سیڑھیاں دکھائی دے رہی تھیں۔ ان سیڑھیوں کو عام طور پر ریڈ اسٹیپس (Red Steps) کہا جاتا ہے۔ ان کے قریب ایک پولیس سارجنٹ تعینات تھا اور سامنے ربن لگا ہوا تھا، کیونکہ دن کے وقت ان سیڑھیوں پر چڑھنے کی اجازت نہیں تھی۔ میں وہیں کھڑا اس منظر کو دیکھتا رہا، تصویریں بناتا رہا اور اپنے یوٹیوب چینل کے لیے ویڈیوز بھی ریکارڈ کرتا رہا۔
میرے سامنے نیویارک کی وہی روشنیاں تھیں جنہیں میں برسوں سے اسکرین پر دیکھتا آیا تھا، مگر آج وہ اسکرین کے دوسری طرف نہیں بلکہ میرے بالکل سامنے تھیں۔ لیکن جس جگہ کو آج ہم ٹائمز اسکوائر کے نام سے جانتے ہیں، یہ ہمیشہ سے ایسی نہیں تھی۔ انیسویں صدی کے آخر میں اس علاقے کو لانگ ایکر اسکوائر (Long Acre Square) کہا جاتا تھا۔ یہ نام لندن کے علاقے لانگ ایکر سے منسوب تھا اور اس زمانے میں یہ علاقہ گھوڑوں اور بگیوں کی تجارت کا مرکز سمجھا جاتا تھا۔ یہاں امریکن ہارس ایکسچینج بھی قائم تھی۔ پھر وقت نے کروٹ لی۔ نیویارک تیزی سے پھیلنے لگا، نقل و حمل کے........
