Zinda Insano Ki Khabar Lijye
زندہ انسانوں کی خبر لیجیے
ہمارے معاشرے میں انسان کی تکلیف کو سمجھنے سے پہلے اس کے خلاف فیصلہ سنانے کی روایت مضبوط ہے۔ جسمانی بیماری انسان کو ہمدردی کا حق دلاتی ہے، جبکہ ذہنی بیماری اکثر اسے صفائی پیش کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ اسے اپنے دکھ کے ساتھ یہ جنگ بھی لڑنی پڑتی ہے کہ دوسروں کو یقین دلائے کہ وہ بہانہ نہیں بنا رہا۔ یہ رویہ ہماری اجتماعی سوچ کی ایک ایسی خرابی ہے جس پر غور کیے بغیر ذہنی صحت کے بارے میں آگاہی کی باتیں محض تقریریں بن کر رہ جائیں گی۔ ڈپریشن کو معمولی اداسی سمجھنا اتنی ہی بڑی غلطی ہے جتنی کسی پیچیدہ جسمانی بیماری کو تھکن کہہ کر نظرانداز کرنا۔
یہ ایک سنجیدہ ذہنی کیفیت ہے جو انسان کی سوچ، احساسات، نیند، توانائی، تعلقات اور روزمرہ زندگی کو متاثر کر سکتی ہے۔ ہر اداس شخص ڈپریشن کا مریض نہیں ہوتا اور ہر مریض اپنی تکلیف کا اظہار ایک ہی انداز میں نہیں کرتا۔ بعض لوگ روتے ہیں، بعض غصے میں رہتے ہیں، بعض سب سے کٹ جاتے ہیں اور بعض دوسروں کے سامنے معمول کے مطابق ہنستے بولتے رہتے ہیں۔ اسی لیے کسی کی ظاہری حالت دیکھ کر اس کے باطن کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ ذہنی بیماری کا کوئی واضح زخم دکھائی نہ دینا اس بات کا ثبوت نہیں کہ انسان اندر سے سلامت ہے۔
ہمارے ہاں ایک عجیب ذہنی پیمانہ رائج ہے۔ اگر کسی کے پاس گھر، روزگار، خاندان اور بنیادی آسائشیں موجود ہوں تو اس کی پریشانی کو غیر ضروری سمجھا جاتا ہے۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ آخر اسے کس بات کا غم ہے؟ ہم یہ سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں کہ آسائشیں زندگی کو آسان بنا سکتی ہیں، لیکن جذباتی تنہائی کا مکمل علاج نہیں۔ ایک شخص بھرے ہوئے گھر میں بھی تنہا ہو سکتا ہے، عزیزوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی خود کو غیر اہم محسوس کر سکتا ہے اور کامیابیوں کے باوجود اندرونی بے سکونی کا شکار ہو سکتا ہے۔ انسان کے پاس سب کچھ ہونے........
