menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Waqt Guzar Raha Hai Ya Hum?

25 0
14.10.2026

وقت گزر رہا ہے یا ہم؟

ہماری معاشرتی زندگی میں ایک عجیب تضاد خاموشی سے بڑھ رہا ہے۔ انسان ساری عمر مصروف رہنے کے لیے دوڑتا ہے، بچوں کی تعلیم، گھر کی تعمیر، روزگار، کاروبار، شادی بیاہ اور معاشی ذمہ داریوں کے درمیان اپنی عمر گزار دیتا ہے، لیکن جب ایک دن یہ سب ذمہ داریاں اس کے کندھوں سے اتر جاتی ہیں تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ جس زندگی کے لیے وہ اتنے برس مصروف رہا، اس زندگی میں اب کرنے کو بچا کیا ہے؟ یہی وہ مقام ہے جہاں ریٹائرمنٹ صرف ملازمت سے فراغت نہیں رہتی بلکہ انسان کے سامنے اس کی اپنی ذات کا سوال کھڑا ہو جاتا ہے۔ ستر برس کی عمر میں اگر انسان کے ہاتھ میں صرف موبائل ہو، آنکھوں کے سامنے مسلسل بدلتی ہوئی اسکرین ہو اور دن رات بے مقصد مصروفیت میں گزر رہے ہوں، وقت تو بہرحال گزر جائے گا، اصل سوال یہ ہے کہ اس کے ساتھ ہماری زندگی کہاں جا رہی ہے؟

ہم نے شاید کامیابی کا مفہوم بھی بہت محدود کر دیا ہے۔ ہم سمجھتے رہے کہ اولاد کو پڑھا دیا، بیٹیوں اور بیٹوں کے گھر بسا دیے، کاروبار یا ملازمت سے کچھ جمع کر لیا، اپنا مکان بنا لیا اور معاشی آسودگی حاصل کر لی تو زندگی کا بڑا مقصد پورا ہوگیا۔ بلاشبہ یہ ذمہ داریاں اہم ہیں، لیکن کیا انسان صرف ذمہ داریوں کا مجموعہ ہے؟ اگر نہیں تو پھر اس مرحلے کے بعد کیا؟ شاید یہی سوال عمر کے اس حصے کی اصل دعوت ہے۔ زندگی کا آخری حصہ دراصل بے مصرف انتظار کا زمانہ نہیں بلکہ اپنے وجود کے ساتھ دوبارہ ملاقات کا وقت ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جب انسان دوسروں کے مستقبل بنانے کے بعد اپنے انجام کے بارے میں سوچ سکتا ہے۔

قرآن مجید انسان کو عمر کی قدر کا احساس دلاتا ہے۔ سورۂ فاطر میں آخرت کے ایک ایسے منظر کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جہاں انسان مہلت ختم ہونے کے بعد واپسی کی آرزو کرتا ہے۔ اسے یاد دلایا جاتا ہے کہ کیا اسے اتنی عمر نہیں دی گئی تھی کہ وہ نصیحت حاصل کر لیتا؟ یہ آیت صرف آخرت کے خوف کی تصویر........

© Daily Urdu