Jab Ilaj Waba Ban Jaye
پاکستان اس وقت ایک ایسے خاموش مگر انتہائی خطرناک صحت کے بحران سے دوچار ہے جس پر سنجیدگی سے توجہ دینے کے بجائے مسلسل غفلت برتی جا رہی ہے۔ ایچ آئی وی، جسے اکثر لوگ صرف مخصوص طبقات یا غیر اخلاقی رویّوں سے جوڑتے ہیں، اب ناقص طبی نظام، غیر محفوظ طبی طریقوں اور انتظامی بے حسی کے باعث عام شہریوں، خواتین اور معصوم بچوں تک پھیل رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں سامنے آنے والے واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ صرف ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ ایک قومی سانحہ بنتا جا رہا ہے۔
سابق وفاقی وزیرِ صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے اپنے حالیہ مضامین اور بیانات میں پاکستان میں تیزی سے پھیلتے ہوئے ایچ آئی وی کو "خاموش وبا" قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان ایشیا میں ایچ آئی وی کے سب سے تیزی سے بڑھتے ہوئے کیسز والے ممالک میں شامل ہو چکا ہے اور اس کی بڑی وجہ غیر محفوظ طبی طریقے ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر آلودہ سرنجوں کے دوبارہ استعمال، خون کی غیر معیاری اسکریننگ اور اسپتالوں میں انفیکشن کنٹرول کے فقدان کو اس بحران کا بنیادی سبب قرار دیا۔ (DAWN)
سب سے زیادہ دل دہلا دینے والا واقعہ پنجاب کے ضلع تونسہ کے تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال میں سامنے آیا، جہاں نومبر 2024 سے اکتوبر 2025 کے دوران 331........
