Falah Ya Tijarat?
پاکستان میں این جی اوز کا کردار ابتدا میں ایک ایسے مثبت سماجی تصور کے طور پر سامنے آیا جس کا بنیادی مقصد محروم طبقات کی مدد، غربت میں کمی، تعلیم، صحت اور انسانی فلاح تھا۔ برصغیر میں خیرات، زکوٰۃ اور سماجی خدمت کی روایت صدیوں سے موجود رہی ہے، مگر جدید این جی او کلچر دوسری جنگِ عظیم کے بعد خصوصاً 1960ء کی دہائی میں فروغ پانے لگا۔ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ان اداروں کو ریاست اور عوام کے درمیان ایک ایسے پل کے طور پر دیکھا گیا جو اُن علاقوں اور طبقات تک بنیادی سہولیات پہنچا سکے جہاں حکومت کی رسائی محدود تھی۔ ابتدا میں یہ تصور نہایت امید افزا تھا کیونکہ این جی اوز کو عوام کے قریب، زمینی حقائق سے واقف اور خدمتِ خلق کے جذبے سے سرشار سمجھا جاتا تھا۔
وقت گزرنے کے ساتھ جب ترقی پذیر ممالک کے لیے عالمی امداد اور غیر ملکی فنڈنگ میں اضافہ ہوا تو این جی اوز اس امداد کی ترسیل کا اہم ذریعہ بن گئیں۔ غیر ملکی ڈونرز کے نزدیک یہ ادارے نسبتاً زیادہ لچکدار، متحرک اور مقامی معاشرے سے جڑے ہوئے تھے۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں این جی او سیکٹر کا ایک بڑا حصہ آہستہ آہستہ خدمت کے بجائے ایک "انڈسٹری" میں تبدیل ہوتا چلا گیا، جہاں فلاحی نعروں کے پسِ پردہ ذاتی مفادات، مالی مراعات، سماجی اثر و رسوخ اور نمائشی سرگرمیوں نے جگہ بنا لی۔
این جی اوز کی تعریف عمومی طور پر ایسی نجی اور غیر منافع بخش تنظیموں کے........
