Bas Ik Chup Si Lagi Hai
الفاظ انسان کی سب سے بڑی امانت ہیں۔ یہی دل کی کیفیت کو زبان دیتے ہیں، یہی معاشروں کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں اور یہی آنے والی نسلوں کے لیے تاریخ کا سرمایہ بنتے ہیں۔ جب الفاظ آزاد ہوں تو خیالات میں تازگی پیدا ہوتی ہے، اختلافِ رائے سے نئے راستے نکلتے ہیں اور معاشرہ اپنے عیوب کو پہچان کر ان کی اصلاح کی طرف بڑھتا ہے۔ لیکن جب انسان اپنے ہی لفظوں سے ڈرنے لگے، یا ہر جملے سے پہلے کئی مرتبہ سوچنے پر مجبور ہو، تو دل میں ایک ایسی اداسی جنم لیتی ہے جسے بیان کرنا آسان نہیں ہوتا۔
خاموشی ہمیشہ سکون کی علامت نہیں ہوتی۔ بعض اوقات خاموشی ایک عجیب سا بوجھ بن جاتی ہے جو انسان کے کندھوں پر آہستہ آہستہ رکھ دیا جاتا ہے۔ کوئی اعلان نہیں ہوتا، کوئی دروازہ بند ہوتا ہوا دکھائی نہیں دیتا، مگر پھر بھی محسوس ہونے لگتا ہے کہ گفتگو کی وسعت پہلے جیسی نہیں رہی۔ الفاظ اپنی جگہ موجود ہوتے ہیں، لیکن ان کی پرواز میں پہلے جیسی بے فکری باقی نہیں رہتی۔ انسان اپنے خیالات کو تولنے لگتا ہے، اپنے سوالوں کو ملتوی کرنے لگتا ہے اور اپنے احساسات کو دل کے کسی کونے میں محفوظ کر دیتا ہے۔
یہ کیفیت صرف کسی ایک فرد کی نہیں ہوتی بلکہ پورے معاشرے کے مزاج پر اثر انداز ہونے لگتی ہے۔ جب........
