menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Mohabbaton Ka Safeer, Ghazal Ka Saleeqa: Bashir Bader

13 0
yesterday

محبتوں کا سفیر، غزل کا سلیقہ: بشیر بدر

اردو غزل کی تاریخ روایات کی پاسداری اور تجربات کی بوقلمونی سے عبارت ہے۔ میر و غالب کی زمینوں سے لے کر ناصر کاظمی اور فراق گورکھپوری کے عہد تک، غزل نے ہر دور کی فکری و حسیاتی تبدیلیوں کو اپنے اندر سمویا ہے۔ جب بیسویں صدی کے نصفِ آخر میں غزل اپنی روایتی علامات اور بوجھل کلاسیکی تراکیب کے بوجھ تلے دبی جا رہی تھی اور دوسری طرف جدیدیت کے نام پر ابہام و نامانوس لفظیات کا غلبہ ہو رہا تھا، ایسے میں ایک ایسا لہجہ ابھرا جس نے غزل کو مٹی کی خوشبو، روزمرہ کی گفتگو اور احساس کی معصومیت عطا کی۔ یہ لہجہ ڈاکٹر بشیر بدر کا تھا۔ بشیر بدر نے غزل کو خواص کے درباروں اور خانقاہوں سے نکال کر عام انسان کے دل کی دھڑکن بنا دیا۔ ان کی شاعری غزل کا وہ سلیقہ ہے جو دھیمے لہجے میں بات کرتا ہے اور ان کی فکر محبت کا وہ پیغام ہے جو نفرتوں کے تپتے صحرا میں ٹھنڈی ہوا کے جھونکے کی مانند محسوس ہوتا ہے۔

بشر بدر کے فن کا سب سے بڑا سلیقہ ان کا انتخابِ الفاظ اور اسلوبِ بیاں ہے۔ انہوں نے غزل کے روایتی، فارسی زدہ اور ثقیل ڈکشن سے انحراف کیا اور اس سہلِ ممتنع، کو اپنایا جسے اردو شاعری میں میر تقی میر کے بعد سب سے کٹھن فن مانا گیا ہے۔ ان کے ہاں لفظ اکھڑے ہوئے یا اجنبی محسوس نہیں ہوتے، بلکہ یوں لگتا ہے جیسے وہ صدیوں سے اسی شعر کا حصہ بننے کے منتظر تھے۔ بشیر بدر کا کمال یہ ہے کہ وہ روزمرہ کی بول چال کے عام الفاظ کو اپنے شعری لمس سے اس طرح کندن بنا دیتے ہیں کہ ان کا ابلاغ قاری کے دل پر سیدھا وار کرتا ہے۔ ان کی شاعری میں استعارے اور تشبیہات دور از کار نہیں ہوتیں، بلکہ ہمارے........

© Daily Urdu