Maqtool Ghalib Ke Mazar Wali Gali
مقتول غالبؔ کے مزار والی گلی
حافظ غلام سرور صاحب کراچی میں بیٹھے بیٹھے یا لیٹے لیٹے پنجاب میں مقیم ایک سابق آئی جی پولیس کی خودنوشت کا مطالعہ کررہے تھے۔ پڑھتے پڑھتے یکایک چونک اُٹھے۔ ہوا یوں کہ سبک دوش آئی جی صاحب نے یکے بعد دیگرے کئی افراد کے قتل کا ذکر کرنے کے بعد لکھ دیا کہ "اتنے قتلوں کے بعد"، اب حافظ صاحب ڈر کے مارے ریٹائرڈ آئی جی صاحب سے تو کچھ پوچھتے نہیں، ہم سے پوچھتے ہیں:
"کیا قتل کی جمع قتلوں درست ہے؟ اگر نہیں، تو قتل کی جمع کیا ہوگی؟"
صاحب! ہم نے تو صرف قتلے، کی جمع قتلوں، سنا ہے۔ قتلہ، (یا قتلا) قاش، پھانک، پارچے اور کھانے کی کسی چیز کے تراشے ہوئے ٹکڑے کو کہتے ہیں۔ اس کی تصغیر یا تانیث کے طور پر قتلی، بھی استعمال ہوتی ہے۔ مثلاً آلو کا قتلہ، گوشت کے قتلے اور برفی کی قتلی۔ شب برأت کے حلوے بھی اکثر قتلوں، ہی کی صورت میں تیار کیے جاتے ہیں۔ تو جناب! ، "اتنے قتلوں کے بعد"، اب ہم مزید کون سا قتلہ آپ کی خدمت میں پیش کریں؟
رہا یہ سوال کہ قتل کی جمع کیا ہوگی؟ تو اِس کا جواب بہت آسان ہے کہ ہمیں نہیں معلوم۔ ہم نے قتل کی جمع کبھی کسی سے سنی، نہ کہیں پڑھی۔ ہاں دوہرے قتل اور تہرے قتل کی خبریں ضرور پڑھا کرتے تھے۔ حربی اور غیر حربی کی تمیز کیے بغیر اگر کوئی سب کو قتل کرنا شروع کردے تو یہ قتلِ عام، کہلاتا ہے، جیسا کہ میرؔ کے زمانے میں فوجی ٹوپی اوڑھ کر گوروں نے عاشق و معشوق سب کو بلا امتیاز قتل کر ڈالا تھا:
کوئی عاشق نظر نہیں آتا ٹوپی والوں نے قتلِ عام کیا
اُنھیں گورے ٹوپی والوں کے ہاتھوں قتلِ عام تو آج بھی برپا ہے۔ مٹھی بھر یہود کی خاطر براعظم یورپ اور براعظم امریکا کی مسیحی........
