menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Ho Gaya Gosht Se Nakhun Ka Juda Ho Jana

59 0
01.03.2026

ہو گیا گوشت سے ناخن کا جدا ہو جانا

چند روز قبل فیڈرل بی ایریا، کراچی سے محترمہ انور جہاں نے بہ قائمیِ ہوش و حواس ایک سوال اس حقیر کے پاس بھیجا: "السلام علیکم جناب۔ ہوش کے ناخن لینے کا کیا مطلب ہے؟ بتائیے تاکہ میں بھی ہوش کے ناخن لوں یا عقل کے ناخن لوں؟"

دیکھیے! کالم نگار کے بتانے تک کیا کیا ملتوی رکھا جاتا ہے۔ یہ معاملہ تو فوری معلوم ہوتا ہے، لہٰذا زیادہ دیر لٹکانا مناسب نہیں۔ یوں بھی ناخن پر خواتین کا خاصا انحصار ہوتا ہے۔ ضرورت کے مطابق جلد جلد بدلنا بھی ہوتا ہے۔ سو کبھی موم کر لیتی ہیں کبھی آہن بنا لیتی ہیں۔

معاملہ اگرمحض ناخن لینے، کاہو تو بول چال یا محاورے میں ناخن لینے، کا مطلب ہے ناخن کاٹنا، ناخن اُتارنا یا ناخن تراشنا۔ ناخن کاٹنے یا تراشنے سے ناخن کی صفائی مقصود ہوتی ہے۔ اوپری حصہ تراش دیا جائے تو اس حصے میں جم جانے والی گندگی منہ میں جانے کا احتمال نہیں رہتا۔ ان معنوں میں ہوش یا عقل کے ناخن لیے جائیں تو گویا ہوش اور عقل کو آلائشوں سے پاک کر لیا جائے اور استعمال کیا جائے۔ مگر ہوش کے ناخن لینے یا عقل کے ناخن لینے کا مفہوم تو سنبھل کر، سوچ سمجھ کر کام کرنا اور جذباتی ہو کر اپنا نقصان کر لینے سے بچ رہنا ہے۔

ناخن، منہ نوچنے کے علاوہ گرہ کھولنے کے کام بھی آتا ہے۔ آپ کا بھی یہی تجربہ ہوگا کہ زندگی کے اکثر معاملات میں گرہ پڑ جاتی ہے، کھولنی پڑتی ہے۔ گرہ کھل جائے تو اُلجھا ہوا معاملہ سلجھ سکتا ہے۔ لیکن گرہ کھولتے وقت پتا چلے کہ آج ہی صبح آپ نے ناخن تراش لیے ہیں یا آپ کے ناخن تراش دیے گئے ہیں تو اُسی قسم کی بے بسی کا سامنا کرنا پڑے گا جیسی درماندگی کا سامنا مرزا اسد اللہ خان غالبؔ کو ہوا........

© Daily Urdu