Faryad Se Mamoor Hain Hum
گزشتہ جمعے کو اَمُر، امیر اور مامور پرگفتگو ہوئی۔ کئی احباب نے توجہ دلائی کہ ہمارے ذرائع ابلاغ اکثر مامور، کو معمور، لکھ دیتے ہیں۔ حکم دیا کہ اِس پر بھی کچھ لکھیے۔ صاحب کیا لکھیں؟ محسوس یہ ہوتا ہے کہ ہمارے ذرائع ابلاغ کو زبان و بیان کی غلطیوں سے معمور رہنے پر مامور کردیا گیا ہے۔ ان کا تو وہی حال ہے کہ "سارے جہاں کا جائزہ، اپنی زباں، سے بے خبر"۔ ممکن ہے کسی نے اُنھیں دھمکا دیا ہو کہ "میاں! درست اُردو لکھو گے یا بولو گے توتمھیں پیسے نہیں ملیں گے"۔ یعنی دولت کا دروازہ تم پر معمور، ہوجائے گا۔
صاحبو! مامور، اورمعمور، ہم معنی نہیں ہیں۔ مامور، کے معنی، جیسا کہ پچھلے کالم میں ذکر ہوچکا ہے، متعین اور مقررکے ہیں۔ مامور کرنا، متعین کرنا، مقرر کرنا یا کوئی کام سپرد کرنا ہے۔ کسی عہدے یا کسی ذمے داری پر تعینات کرنا ہے۔ جب کہ معمور، بالکل الگ لفظ ہے۔
معمور، کے مختلف معانی ہیں۔ اُردو میں اس لفظ کا سب سے زیادہ استعمال جن معنوں میں ہوتا ہے وہ ہیں لبریز، بھرا ہوا، مملو یا پُر۔ آپ کو یاد ہوگا کہ اقبالؔ نے خدا کے حضور شکوۂ اربابِ وفا اور خوگرِ حمد کا گلہ پیش کرنے سے قبل یہ عذر بھی پیش کیا تھا کہ
ساز خاموش ہیں، فریاد سے معمور ہیں ہم
نالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہم
سورۂ طور کی آیت نمبر چار میں "بیت المعمور" کا ذکر آیا ہے۔ بیت المعمور، فرشتوں کا خانۂ کعبہ ہے۔ ساتویں آسمان پر بیت اللہ کے عین اوپر واقع ہے۔ روایات کے مطابق بیت المعمور سے کوئی چیز گرائی جائے تو وہ سیدھی آکر زمین پر واقع خانۂ کعبہ........
