Column Mein Apari Thi Sukhan Gustarana Baat
"کالم" میں آ پڑی تھی سخن گسترانہ بات
بات بہت معمولی سی تھی، سماجی ذرائع ابلاغ کے معمولات کے مطابق۔ یہ بات نظرانداز بھی کی جاسکتی تھی۔ مگر اِس بات کے پیچھے جو بات ہے اگر وہ بات نظرانداز نہ کی جائے، بلکہ اُس کی اصلاح کرلی جائے، تو صاحب! بات بن جائے۔
بات یہ ہے کہ ہر بات سے اختلاف کا اظہار کرنا ہماری اجتماعی عادتِ ثانیہ بن چکی ہے۔ اختلاف اگر دلیل سے کیا جائے تو باعثِ رحمت۔ عادتاً کیا جائے تو ہر فریق کے لیے نہ صرف زحمت ہی زحمت، بلکہ بسا اوقات معترض کے لیے وجہِ ذلت۔ آخر کیا ضروری ہے کہ بِن بولے نہ رہا جائے۔ بات کوئی بھی ہو، کچھ نہ کچھ لازماً ہی کہا جائے۔ اگر کہنے کو کچھ نہ ہو، تب بھی کم از کم اختلاف تو ضرور ہی کردیا جائے۔
ہمارا مشاہدہ ہے، آپ کا بھی ہوگا، کہ کسی بھی محفل میں بالعموم اور سماجی ذرائع ابلاغ پر بالخصوص، آپ کوئی بھی بات کہیے، مثلاً یہی کہ "ہمیشہ سچ بولو" تو کہتے یا لکھتے ہی دسیوں تبصرے اس قول کی مخالفت میں آجائیں گے۔ اب آپ بیٹھے اپنا سر سہلاتے رہیے۔
ہمارے گزشتہ کالم کا مرکزی موضوع تو کچھ اور تھا۔ مگر برسبیلِ تذکرہ، بیچ کالم کے، ہم یہ بھی لکھ گئے تھے کہ صحت خوانی، انگریزی اصطلاح، Proof readingکا نہایت بلیغ اور جامع اُردو ترجمہ ہے جو اُستادِ گرامی پروفیسر محمد اسحٰق جلالپوری مرحوم کے عطایا میں سے ہے۔ پروفیسر صاحب کشورِ پنجاب کے مشہور مقام کھیوڑہ کے قریب واقع جلال پور شریف سے تعلق رکھتے تھے۔ اُردو پر سند تھے۔ ماہرِ نصابیات تھے اور متعدد نصابی کتب کے مصنف، پروف ریڈنگ، میں مطبوعہ متن کی صحت ہی کا تو جائزہ لیا جاتا ہے۔ لہٰذا ہماری نظر میں اس عمل کے لیے صحت خوانی، ہی موزوں ترین ترکیب ہے۔
جس نے بھی توجہ سے کالم پڑھا ہوگا، سمجھ گیا ہوگا کہ یہ اصطلاح کالم نگار کی وضع کردہ نہیں۔ نصابیات اور زبان و بیان کے ایک ماہر اُستاد کا عطیہ ہے۔ کالم نگار نے اِس اصطلاح کی موزونیت کے متعلق محض اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ ہر شخص........
