Bijli Bijli Hoti Hai
ہمارے نام ایک، برق نامہ (یا، برقیہ)آیا ہے۔ اس برقنامے کے مُرسِل نے سوال فرمایا ہے کہ "برق گرتی ہے یا چمکتی ہے؟"
صاحبو! آج کل تو ہر چیز، برقی ہوتی جا رہی ہے۔ بلکہ یوں کہہ لیجے کہ ہر شے، برقائی جا رہی ہے۔ نامہ ہی نہیں نامہ بر بھی۔ ایک زمانہ تھا کہ حضرتِ داغؔ قاصد کو روانہ کرنے کے بعد گھر کے باہر ٹیڑھے ٹیڑھے کھڑے ہو کر اُس کی رفتار، اُس کے چال چلن اور اُس کی چال ڈھال کا بغور معائنہ فرمایا کرتے تھے اور زیرِ لب بڑبڑایا کرتے تھے کہ
قاصد یہاں سے برق تھا پر نصف راہ سے بیمار کی ہے چال، قدم ناتواں کے ہیں
مگر اب قاصد کی بیماری و ناتوانی کا برقی علاج کر دیا گیا ہے۔ بجلی کے جھٹکوں نے اسے چاق چوبند کرکے رکھ دیا ہے۔ برقی قاصد اب ہماری اُنگلیوں کے اشاروں پر ناچتا ہے۔ انگلیاں تختۂ کلید پر تھرکتی رہتی ہیں۔ جوں ہی خط مکمل ہوتا ہے، ہمارا برقی، نامہ بر ایک اشارۂ انگشت پر فقط لمحے بھر میں، نامہ بنامِ یار سات سمندر پار پہنچا آتا ہے۔ اس سے زیادہ برق رفتاری اور کیا ہوگی؟
ہاں، تو سوال یہ تھا کہ "برق گرتی ہے یا چمکتی ہے؟"
حضرت! لغت کے لحاظ سے تو، برق چمکتی ہے۔ بادلوں کی رگڑ سے چمک چمک جانے والی بجلی کو برق کہا جاتا ہے۔ جب کہ زمین پر گرنے والی بجلی، صاعقہ کہلاتی ہے۔ اپنی زمین پر اِدھر اُدھر دیکھیے تو نہ جانے کتنی، صاعقائیں لوگوں پر بجلی گراتی نظر آئیں۔ اسی وجہ سے اِدھر اُدھر دیکھنے کو منع کیاِ جاتا ہے۔ مگر علامہ اقبالؔ نے مسلمانوں پر گرنے والی ہر آسمانی، صاعقہ کو برق گردانا ہے:
"برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر"
اقبالؔ ہی نے نہیں، اُردو کے دیگر شعرا نے بھی، برق گرنے یا، برق بن کر گرنے کی تراکیب استعمال کی ہیں۔ برق،........
