menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

5 Saal Baad Ki Peshangoi

42 0
18.09.2026

پانچ سال بعد کی پیشین گوئی

اُردو صحافت کے معاصرین میں ڈاکٹر طاہر مسعود ممتاز مقام رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نہ صرف خود کہنہ مشق صحافی ہیں بلکہ متعدد معاصر صحافیوں کے اُستاد بھی ہیں۔ پچھلے دنوں اُنھوں نے اپنے مخصوص اُستادانہ رنگ میں ایک پیش گوئی کی۔ پیش گوئی کرتے ہوئے کہاکہ "کہنے کی بات تو نہیں، مگر کہے دیتا ہوں کہ زیادہ نہیں فقط پانچ سال اور پھر سب کچھ بدل جائے گا۔ یہ ملک ایک نیا ملک بن جائے گا۔ اس لیے اے اہلِ وطن مایوس نہ ہو۔ یہ کسی نجومی، کسی ماہر فلکیات کی پیشین گوئی نہیں۔ حالات اور قرائن بتا رہے ہیں کہ یہ فرسودہ گلا سڑا نظام بس زمیں بوس ہونے کو ہے"۔

اس نظام کی فرسودگی، گلاوٹ اور سڑاند کا ایک سبب تو یہی ہے کہ اس پورے نظام کی زبان ایک ایسی زبان ہے جو ہمارے ملک کے کسی حصے کی تو کیا اِس پورے خطے کی زبان نہیں ہے۔ ہمارے ملک کے عوام کی زبان اور ہے اور اُن پر مسلط نظام کی زبان اور۔ ایسے نظام کو گلنا، سڑنا اور فرسودہ تو ہونا ہی تھا۔ مگر ڈاکٹر صاحب کی پیش گوئی فقط پانچ برسوں میں اس نظام کو زمیں بوس کررہی ہے۔ ساتھ ہی وہ یہ وضاحت بھی کررہے ہیں کہ یہ کسی نجومی یا کسی ماہر فلکیات کی پیش گوئی نہیں۔ ظاہر ہے، یہ ایک اُستاد کی پیش گوئی ہے۔ اُستاد بھی وہ جس نے کوچۂ صحافت و اُستادی میں اپنی پچھلی تمام عمر بسر کردی ہے۔ اب جتنی عمر باقی رہ گئی ہے، وہ بھی اِسی کوئے دلدار میں بِتائے جارہے ہیں۔

یہاں ہمارے قارئین ہم پر معترض ہوسکتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب نے تو لفظ "پیشین گوئی" استعمال کیا ہے، جب کہ تم بار بار "پیش گوئی" لکھ رہے ہو۔ صاحب! خفا نہ ہوں۔ ڈاکٹر صاحب نے بھی درست لکھا اور ہم بھی ٹھیک ہی لکھ رہے ہیں۔ بات یہ ہے کہ پیش، فارسی لفظ ہے۔ یہاں اِس کے معنی ہیں آگے، سامنے، پہلے، قبل اور آیندہ۔ کسی کے آگے کوئی کھانے پینے کی چیز رکھ دی جائے یا کوئی عرضی اور........

© Daily Urdu