Jab Ilm Zuban Ko Tehzeeb Na De
جب علم زبان کو تہذیب نہ دے
اختلافِ رائے انسانی فطرت کا تقاضا ہے اور یہ دنیا میں ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔ ہر انسان اپنی سوچ کے مطابق کسی راستے کو بہتر سمجھ کر اختیار کر سکتا ہے۔ اس کی رائے درست بھی ہو سکتی ہے اور غلط بھی ہوسکتی ہے۔ اس پر تنقید کی جا سکتی ہے، مگر اختلاف کسی کو الزام تراشی، بد اخلاقی، بدتہذیبی اور گالی گلوچ کا حق نہیں دیتا۔ ہمارے معاشرے میں اختلافِ رائے ہوتے ہی طعن و تشنیع، الزام تراشی اور کردار کشی شروع ہو جاتی ہے۔ بہت سے ایسے لوگ بھی اس رویے میں پیش پیش نظر آتے ہیں جو مذہبی سیاسی جماعت سے وابستہ ہوتے ہیں اور قرآن، حدیث اور فقہ و اصول سے واقف ہوتے ہیں، مگر علمائے کرام کی رائے یا عمل سے بھی اختلاف ہو تو گالی، الزام تراشی اور کردار کشی کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں۔
دینی تعلیم اگرچہ انسان کی اصلاح کے لیے ہے، مگر علم اسی وقت نفع بخش بنتا ہے جب وہ انسان کے دل، نفس، زبان اور کردار پر اثر انداز ہو۔ کتابیں پڑھ لینا اور معلومات کا حصول ایک الگ چیز ہے، جبکہ علم کو اپنے مزاج اور رویے میں ڈھال لینا........
