Hurmat e Harmain Shareefain Par Koi Samjhota Nahi
حرمتِ حرمین شریفین پر کوئی سمجھوتا نہیں
مکہ مکرمہ کی جانب حوثیوں کے حملے انتہائی سنگین، قابلِ مذمت اور قابلِ گرفت واقعہ ہیں۔ حملہ مکہ مکرمہ کے کسی بھی مقام پر ہو، اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی، لیکن مذہبی، مسلکی یا سیاسی تعصب کی بنیاد پر ایسے حملے کے وجود ہی سے انکار کرنا، حملہ آوروں کے اقدام کا دفاع کرنا یا اس واقعے کو سعودی عرب کی مخالفت کے لیے استعمال کرنا بھی انتہائی افسوس ناک رویہ ہے۔ ایسے ردِعمل میں بعض حلقوں کی ایران نوازی یا سعودی مخالف سوچ بھی نمایاں محسوس ہوتی ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے بعض کارکنان کو موجودہ پاکستانی حکومت یا فوج سے اختلاف ہے، پاک سعودی تعلقات کی مضبوطی کو سعودی عرب کی مخالفت کی بنیاد بنانا ایک الگ ہی نوعیت کا سیاسی تعصب ہے۔
سوشل میڈیا پر بعض لوگ حوثیوں کے حملے کی مذمت کرنے والے علماء کو یہ کہہ کر تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں کہ سعودی عرب میں بعض غیر مناسب سرگرمیوں کے وقت یہ علماء خاموش رہتے ہیں، لیکن اب سعودی عرب کے دفاع میں بول رہے ہیں، حالانکہ سعودی عرب کی کسی نامناسب پالیسی یا وہاں ہونے والی کسی غیر مناسب سرگرمی پر تنقید ضرور ہونی چاہیے۔ ہمارے........
