menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Kya He Acha Hota Agar Koi Hal Nikal Aata

24 0
16.10.2026

کیا ہی اچھا ہوتا اگر کوئی حل نکل آتا

گیارہ اکتوبر 2026 کو بظاہر ہر حوالے سے قانونی اور آئینی اقدامات کے ذریعے خیبر پختون خوا کی منتخب حکومت کومعطل کرکے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی، آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج اور آرٹیکل 245 کے تحت صوبے میں فوج تعینات کرنے کے حکم نامے جاری ہوئے۔ ایمرجنسی کی مدت کوئی بھی ہو سکتی ہے جب کہ گورنر راج زیادہ سے زیادہ 6ماہ چل سکتا ہے۔ پاکستانیسیاحت

یہ سب کچھ 11 اکتوبر کو محض چند گھنٹوں میں ہوا لیکن پچھلے کم از کم دو ماہ سے حالات ان اقدامات کی جانب اشارہ کر رہے تھے۔ صوبہ کے پی کے، کے وزیرِ اعلیٰ جناب سہیل آفریدی محسوس کر رہے تھے کہ سیاسی کشیدگی کی وجہ سے ایسا ہونا ممکن ہے لیکن پاکستان سے باہر بیٹھے بظاہر پی ٹی آئی ہمدرد وی لاگرز اور پاکستان کے اندر پی ٹی آئی میڈیا ان پر یہ کہہ کر دباؤ ڈال رہے تھے کہ وہ جناب بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے زور نہیں لگا رہے اور یہ کہ وزیرِ اعلیٰ کو انتہائی اقدامات اٹھاتے ہوئے لانگ مارچ اور اسلام آباد میں دھرنا دینا چاہیئے۔

باتیں بنانے والوں کا تو کچھ نہیں جاتا لیکن میدان میں اترنا اتنا آسان نہیں ہوتا جتنا باتیں بنانا۔ جناب سہیل آفریدی نوجوان ہیں اور انھیں بانی پی ٹی آئی سے بہت لگاؤ ہے۔ وہ کئی مرتبہ اڈیالہ جیل کے باہر پہنچ کر احتجاج کر چکے تھے لیکن کبھی بھی ان کے ساتھ اتنے کارکن جمع نہیں ہوئے کہ وہ فرق ڈال سکیں۔ انھی تجربات کی بنیاد پر انھیں شاید اندازہ تھا کہ عوام کے جس 20لاکھ سونامی کا وہ اور ان کی ٹیم دعویٰ کر رہی ہے، وہ جمع کرنا بہت مشکل ہوگا۔ دباؤ میں آ کر انھوں نے بہر حال چار و ناچار لانگ مارچ کا قدم اُٹھا لیا۔

مقتدرہ اور وفاقی حکومت لانگ مارچ کو راستہ دینے کے لیے بالکل تیار نہیں تھی۔ آخری کور کمانڈر کانفرنس کا اعلامیہ واضح تھا۔ وفاقی حکومت کہہ رہی تھی کہ لانگ مارچ کو کسی قیمت اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ صحیح ہے کہ اس سے معیشت کو ہی نہیں نقصان پہنچتا بلکہ ملک میں امن و امان کی........

© Daily Urdu