Masnoi Zahanat: Chand Baatein
مصنوعی ذہانت: چند باتیں
ان دنوں اے آئی کا بہت شور ہے، اس پہ مسلسل مضمون لکھے جا رہے، بلکہ اسے استعمال کرنے والوں کی تعداد بھی روز بروز بڑھتی جا رہی ہے، لکھنے والوں کی ایک کثیر تعداد اس سے استفادہ کر رہی ہے، شاعر اس سے نظمیں لکھوا رہے اورنقاد اپنے مضامین بھی، مترجمین بھی کم یا زیادہ، اے آئی سے مستفید ہو رہے ہیں، نئے لکھنے والوں (خواتین و حضرات) کی ایک کثیر تعداد اے آئی کی وجہ سے لکھ پا رہی ہے، ایسے میں مصنوعی ذہانت یا اے آئی قابلِ تعریف بھی ہے اور قابل تنقید و باعث تشویش بھی۔ اب کوئی کتاب، مضمون، تحریر یا تنقیدی فن پارہ پڑھتے ہوئے مسلسل خیال اے آئی(AI)کی طرف جاتا ہے۔
مجھے مصنوعی ذہانت کے ذریعے باریک واردات ڈالنے والوں پر اس وقت زیادہ حیرانی ہوئی جب لمز کے مایہ ناز ادبی جریدے "بنیاد"کے لیے بھیجے گئے کئی تنقیدی مضامین، محض اس لیے رد کر دیے گئے کہ محققین و ناقدین نے مصنوعی ذہانت سے لکھوائے تھے اور جب محققین کو اس بارے ای میل کی گئی تو انھوں نے مدیر کا شکریہ ادا کیا، یہ تو اچھا ہوا اپنے مضامین بھیجنے والوں نے یہ نہیں کہہ دیا کہ ہم تو" ادارتی بورڈ" کا علم چیک کر رہے تھے"۔ مصنوعی ذہانت پر اگرچہ بہت زیادہ لکھا جا رہا ہے مگر اس حوالے سے عہد ساز نقاد ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی کچھ تحاریر خاص توجہ کی حامل رہیں۔ "میں سوچ رہا ہوں کہ ان لکھنے والوں کے لیے ایک مناسب سا نام تجویز کیا جانا چاہیے، ہائیبرڈ رائٹرز، مصنوعی ذہانت کی........
