menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Log Rukhsat Hue Aur Log Bhi Kaise Kaise

30 0
27.04.2026

لوگ رخصت ہوئے اور لوگ بھی کیسے کیسے

شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خانؒ، مولانا حسین علیؒ اور علامہ سید انور شاہ کشمیریؒ کے مایہ ناز شاگردوں میں سے تھے جنھوں نے تما م عمر توحید و سنت کا پرچار کیا، شیخ القرآنؒ نے اپنے اساتذہ کے پڑھائے ہوئے اسباق اور دعوت پر نہ صرف خود من و عن عمل کیا بلکہ وطن عزیز کے کونے کونے میں اس دعوت کو عام کیا۔ آپ انتہائی جری، بے باک اور معاملہ فہم عالم دین تھے، قومی تحریکات میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، مجلس احرار اسلام ہو یا پھرتحریک ختمِ نبوت کے دونوں ادوار، تحریک نظام مصطفی ہو یا پھر کوئی اور قومی و دینی تحریک، آپ نے ہمیشہ بہت نمایاں اور دبنگ کردارادا کیا۔

تمام عمر ردِ شرک و بدعت اور توحید و سنت کی اشاعت کے لیے اپنے آپ کو وقف کیے رکھا، اس مایہ ناز سفر میں آپ کو ہزاروں مصائب اور تکالیف کا سامنا کرنا پڑا، اپنے پرائے ہو گئے، دوست دشمن ہو گئے، گھر والوں نے منہ موڑ لیا، اہلیانِ علاقہ نے نفرت کا اظہار کرنا شروع کر دیا مگر آپ شیخ القرآنؒ کا حوصلہ دیکھیں، ان ساری پریشانیوں کے باوجود آپ کے پائے استقلال میں ذرا بھی لغزش نہ آئی، آپ کاجذبہ اور توحید و سنت کے پرچار کا جنون، دنیاوی مصیبتوں پر ہمیشہ حاوی رہا۔ کسی بھی طرح کا لالچ، دھمکی یا سازش ان کے قدم ڈگمگا نہ سکی، حکمرانوں کے جاہ و جلال، رعب و دبدبہ اور شان و شوکت سے مرعوب ہونا وہ جانتے ہی نہ تھے، اگر میں یہ کہوں تو بے جا نہ ہوگا کہ وہ بت کدوں میں اللہ اکبر کی صدا لگاتے رہے، یہی وجہ........

© Daily Urdu