Mir Ka Safar e Tasang: Jadeed Technology Ki Roshni Mein (3)
میر کا سفرِ تسنگ: جدید ٹیکنالوجی کی روشنی میں (3)
کلیاتِ میر کے مرتب احمد محفوظ نے دوسری جلد کے پیش لفظ میں لکھا ہے کہ انہوں نے تسنگ نام کی تصدیق کے لیے جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی کے اردو خط و کتابت کورس کے شعبے سے وابستہ جناب جمیل احمد سے استفسار کیا، جن کا تعلق ضلع میرٹھ سے ہے۔ جمیل صاحب نے بتایا کہ میرٹھ کا ایک مشہور قصبہ لاوڑ نام کا ہے اور اس سے قریب ایک بستی ہے جس بول چال میں تِسن (Tisan) کہتے ہیں۔۔
دوسری جانب میر کے ایک اور معتبر محقق نثار احمد فاروقی تلاشِ میر، میں لکھتے ہیں کہ تسنگ نامی ایک گانو، ضلع کرنال میں آج بھی موجود ہے۔ نثار صاحب نے کرنال میں تسنگ تو ڈھونڈ نکالا مگر یہ نہیں دیکھا کہ تسنگ نامہ میں جو نقشہ بنتا ہے اس میں کرنال کی گنجائش بنتی ہے یا نہیں۔ اسی طرح کلب علی خاں فائق اپنے ایک مضمون میں اصرار کرتے ہیں کہ نسنگ، (وہ اسے نسنگ ہی سمجھتے ہیں) کرنال ہی میں موجود ہے۔ لیکن یہ صاحبان یہ دیکھنا بھول گئے کہ مثنوی میں چڑھتے ساون میں بپھری ہوئی جمنا پار کرکے تسنگ جانے کا روح فرسا ماجرا بیان کیا گیا ہے، جب کہ دہلی اور کرنال دونوں جمنا کی مغربی سمت واقع ہیں اور کرنال جانے کے لیے دریا پار کرنے کی تک نہیں بنتی۔ کرنال میں نسنگ تلاش کرنے کا ایک اور نقصان یہ ہوا کہ فائق صاحب کو مثنوی میں بیان کردہ لاوڑ کا بھی انکار کرکے اسے لاڈو بنانا پڑا۔
خیر، ہم ان اگلے وقتوں کے ان بزرگوں کو دوش نہیں دیتے لیکن اب زمانہ آگے کی چال چل گیا ہے اور گوگل میپ پر کوچے کوچے کی تفصیل موجود ہے۔ چنانچہ ہم نے جب پھرولنا شروع کیا تو تسن نہیں پورا تسنگ ہی نکل آیا اور وہ بھی جمنا کے مشرقی کنارے پر۔ ہم نے تسنگ کو زوم کرکے دیکھا تو اس میں مرکزی بازار کے علاوہ ایک مینارہ مسجد، مدرسہ اسلامیہ عربیہ، لوہاروں والی مسجد، شیو مندر، درگا مندر، مہاکال آشرم بھی دکھائی دیے۔ یہاں ڈاک خانہ بھی ہے اور یونین بینک آف انڈیا بھی۔ مدرسہ اسلامیہ عربیہ کا نمبر وٹس ایپ پر نہیں ہے۔ غفران کوچنگ سینٹر اور مہتاب چکن نے فون نہیں اٹھایا، شاویز میڈیکل سٹور نے بھی جواب نہیں دیا۔ حکیم قاسم کا معاملہ دلچسپ نکلا، ہم نے فون کیا تو نہیں اٹھایا۔ دوسری بار کال کی تو کاٹ دی۔ تھوڑی دیر بعد وٹس ایپ کی طرف سے پیغام آیا کہ آپ کا اکاؤنٹ سات دن کے لیے معطل کیا جا رہا ہے کیوں کہ آپ سپیمنگ کے........
