menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Waqt Ki Bisat Aur Qaumon Ka Muqaddar

19 0
11.07.2026

وقت کی بساط اور قوموں کا مقدر

موسم بدلتے ہیں تو پرندے اپنی ہجرت کا سفر بدل لیتے ہیں، پتجھڑ کے بعد بہار کی آمد ایک طے شدہ فطری امر ہے، لیکن جب وقت بدلتا ہے تو تاریخ کا رخ بدل جاتا ہے۔ ہم اکثر اپنے اردگرد مٹی کے ڈھیروں، ویران عمارتوں اور ماضی کے آثار کو دیکھ کر سوچتے ہیں کہ زوال کی داستانیں کیسے لکھی جاتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ زوال کبھی اچانک اور یکدم نہیں آتا یہ اس وقت بہت آہستہ سے، دبے پاؤں دستک دیتا ہے جب کوئی معاشرہ گھڑی کی ٹک ٹک کو محض ایک آواز سمجھ کر نظر انداز کرنے لگتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم نے لمحوں کی قیمت چکانے سے انکار کیا، وقت نے اسے اپنے صفحات سے مٹا کر کسی عبرت ناک کہانی کا حصہ بنا دیا۔

ادب کی دنیا میں کہا جاتا ہے کہ وقت وہ دریا ہے جس کا پانی دوبارہ کبھی آپ کے پاؤں کو نہیں چھوتا۔ جو قطرہ ایک بار گزر گیا، وہ اب ایک قصہ ہے، ایک یاد ہے یا پھر ایک پچھتاوا۔ حیرت ہوتی ہے کہ ہم اس مٹھی سے پھسلتی ہوئی ریت کو روکنے کی الٹی سیدھی کوششیں تو کرتے ہیں، مگر اس کے درست استعمال کا ہنر سیکھنے سے کتراتے ہیں۔ دنیا کے نقشے پر اگر نظر دوڑائی جائے، تو جن خوابوں کی تعبیریں آج فلک بوس عمارتوں، معاشی استحکام اور جدید ایجادات کی صورت میں دکھائی دیتی ہیں، ان کے پیچھے کوئی جادوئی چراغ نہیں تھا، بلکہ وقت کی قدر کا........

© Daily Urdu (Blogs)