Tum Bhi Gadha Hai
تھاکوٹ سے آگے بشام میں کبھی شب بسری کا ٹھکانہ دریائے سندھ کے کنارے پی ٹی ڈی سی موٹل ہوا کرتا تھا۔ نجانے اس کے لان میں کتنے شب و روز بسر کیے ہیں۔ مجھے یاد آ رہا ہے کہ اک بار کاؤس جی کو پائپ پیتے دیکھا تھا۔ کاؤس جی بڑے منجھے ہوئے دانشور تھے، سیاسی و سماجی معاملات پر ان کی گہری نظر ہوا کرتی۔ کمال کے کالم نویس تھے اور کیا ہی سیدھے و نفیس انسان تھے۔ آخری عمر تک پینٹ کوٹ پہنتے رہے۔ سوٹڈ بوٹد ویل ڈریسڈ رہا کرتے۔ اس دن وہ پائپ سلگائے لان میں براجمان تھے۔ میں نے پہچان کر سلام کیا تو آدھ منٹ تک میرے چہرے کو پہچاننے کی کوشش کرتے رہے، پھر دھیمے سے بولے "تم کون ہے جو مجھے پہاڑوں میں پہچان گیا؟ لوگ شہروں میں نہیں پہچانتا"۔ یہ سنہ 2011 کی گرم شام تھی۔ اردشیر کاؤس جی کچھ ماہ بعد چل بسے۔
اسی جگہ، اسی بشام میں اور پی ٹی ڈی سی کے اسی لان میں، میں نے سنہ 2016 اپریل کی ایک شام کو اپنی دوست کو پروپوز کر دیا تھا۔ وہ میڈیا پرسن تھی، ایک چینل میں اینکر تھی۔ اس سے دوستی خالص دوستی تھی۔ میڈیا کی نوکری اس کی مجبوری تھی، میک آپ سے سج دھج کر ٹی وی پر آنا اس کی روٹین لائف کا حصہ تھا۔ حساس اور سلجھی ہوئی لڑکی تھی۔ ہم دونوں کا تعلق ایسا تھا کہ میں اس کے ماضی و حال کو جانتا تھا اور وہ میرے۔ کس کی زندگی میں کیا چل رہا ہے سب کمیونیکیٹ ہو جایا کرتا۔ زندگی میں چار بار آمنے سامنے ملاقات ہو سکی۔ پہلی دو بار انگلش ٹی ہاوس میں چائے پی چکے تھے۔ تیسری بار یہیں اسی لان میں، پی ٹی ڈی سی بشام کی ایک قدرے ٹھنڈی شام میں۔
آپ مجھے پڑھنے والوں کی اکثریت جانتی ہی ہے کہ میری پہلی شادی جو دو طرفہ محبت کی شادی تھی اور اوائل نوجوانی میں ہی کر گزرا تھا وہ دس سال بعد ناکام ہوگئی۔ اس تعلق کے ختم ہونے پر میں شدید ذہنی دباو یا ڈپریشن کا شکار ہوا۔ یہ انہی دنوں کی بات ہے........
