menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Tasadum Ka Rasta Apne Anjam Tak Zaroor Pohanchta Hai

12 0
yesterday

تصادم کا راستہ اپنے انجام تک ضرور پہنچتا ہے

جذبات اور زمینی حقیقتوں کے درمیان ہمیشہ ایک فاصلہ رہا ہے۔ جذبات ہر نظریاتی کارکن کا ایندھن ہوتے ہیں جبکہ زمینی حقائق اکثر اس وقت دکھائی دیتے ہیں جب نعروں کا شور مدھم پڑ جاتا ہے۔ تاریخ کا ایک مستقل سبق یہی ہے کہ جذبات لمحاتی ہو سکتے ہیں مگر ریاستیں اور ان کے ردِعمل ایک طویل تاریخی سلسلے کا حصہ ہوتے ہیں۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالیں تو شاید ہی کوئی ایسا باب ملے جس میں ریاست اور کسی سیاسی یا نظریاتی قوت کے درمیان کشمکش نہ ہوئی ہو۔ دنیا میں کہیں ہو یا اپنے ہاں پاکستان میں ہو، کچھ نیا نہیں ہوتا۔ سب کچھ تاریخ کا سلسلہ ہے۔ یعنی، آج جو آپ کو کچھ نیا محسوس ہوتا ہے، وہ جنگ ہو، نظریات کا ٹکراؤ ہو، سیاست و ریاست کے مابین مقابلہ ہو یا سول سپریمیسی و عسکری طاقت کے درمیاں جاری رسہ کُشی ہو، یہ سب تاریخی سلسلے سے جُڑی کڑیاں ہوتی ہیں۔ یہ سب پہلے ہو چکا ہوتا ہے اور اس کا انجام بھی مطالعے یا تجزئیے کے واسطے سامنے آ چکا ہوتا ہے۔

نیشنل عوامی پارٹی (NAP) سیاسی میدان کی ایک بڑی حقیقت بن کر اُبھری تھی۔ مسئلہ تب پیدا ہونا شروع ہوا جب عوامی حمایت کے ہمراہ اس نے مسلحہ گروہ یا عسکری ونگ بھی بنا لیا یا ان کو باامر مجبوری بنانا پڑا، جو بھی آپ سمجھ لیں، پارٹی کے جلسے بھرپور تھے مگر ساتھ ساتھ اس میں تخریب کا عنصر بھی شامل ہو رہا تھا۔ سنہ 75 میں نیپ پر ریاست نے پابندی عائد کر دی۔ نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی کی کارروائی صوبہ سرحد کے سینئر وزیر حیات محمدخان شیرپاؤ کے پشاور یونیورسٹی میں ایک بم دھماکے میں ہلاکت کے نتیجے میں ہوئی تھی۔ حکومت نے نیپ کو مورد الزام ٹھہرایا تھا جو مبینہ طور پر اس تخریبی کاروائی میں ملوث تھی۔ نیپ کے سرکردہ رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا تھا جن میں سربراہ........

© Daily Urdu (Blogs)