Iqrar Ul Hassan, Giraftari Aur Chand Guzarishat
اقرار الحسن، گرفتاری اور چند گزارشات
اقرار الحسن کو گھر سے اٹھائے جانے کی ابتدائی اطلاع ان کی اہلیہ کی جانب سے آئی تو بتایا گیا کہ این سی سی آئی اے کے اہلکار انہیں لے گئے ہیں۔ خیال آیا کہ کوئی مقدمہ ہوگا یا کوئی الزام ہوگا، کوئی قانونی کارروائی درکار ہوگی اور صبح تک انہیں عدالت میں پیش کر دیا جائے گا۔ مگر پھر کہانی نے ایک عجیب موڑ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کارروائی سے لاتعلقی ظاہر کر دی، پنجاب پولیس نے بھی لاعلمی کا اظہار کیا اور وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کے مطابق تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ انہیں کون لے گیا۔ مگر تادمِ تحریر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اقرار الحسن کو حراست میں لینے کی ذمہ داری کس ادارے نے قبول کی ہے۔
اطلاعات کے مطابق اقرار الحسن کی گم شدگی کا ممکنہ تعلق خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد ان کی بنائی گئی ایک مذمتی ویڈیو سے جوڑا جا رہا ہے۔ اگر واقعی معاملہ یہی ہے تو سوال یہ ہے کہ کسی فیصلے سے اختلاف کرنا آخر کب سے ایسا جرم بن گیا جس کی سزا کسی شخص کو قانون کی نظروں سے اوجھل کر دینا ہو؟ یہ بھی ہمارے اجتماعی رویے کا المیہ ہے کہ اقرار الحسن نے جن لوگوں کے حق میں آواز اٹھائی ان میں سے اکثر آج بھی انہیں ٹوپی ڈرامہ قرار دینے میں مصروف ہیں۔ اسی مخصوص طبقے کی جانب........
