Bangladesh: Quetta Tehreek Se Intikhabi Be Yaqeeni Tak
2024 کے وسط میں بنگلہ دیش بھر میں 1971 کی جنگ آزادی میں حصہ لینے والے خاندانوں کے لئے ملازمتوں میں 30 فیصد کوٹہ مختص کرنے کے خلاف کئی دنوں پہ محیط ملک گیر طلباء قیادت والی عوامی احتجاج بالآخر عوامی لیگ کی شیخ حسینہ واجد کی 15 سالہ طویل دور اقتدار کے خاتمے پہ منتج ہوا اور اس کی جگہ نوبل انعام یافتہ محمد یونس کی سربراہی میں عبوری حکومت نے عنان اقتدار سنبھالا۔ ڈیڑھ سال کی عبوری حکومت کے بعد اب انتخابات اسی مہینے کی 12 تاریخ کو منعقد ہونے جا رہے ہیں۔ لیکن ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں میں سے ایک اور پچھلے 15 سال سے اقتدار پہ قابض عوامی لیگ کے انتخابی نشان" کشتی" پہ عدالتی پابندی کی وجہ سے سیاسی ماحول انتہائی کشیدہ، غیر یقینی سے دوچار ہے۔
انتخابات کی شفافیت پہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔ یہ بالکل اسی طرح کی صورتحال ہے جس طرح ہمارے ملک میں دو سال پہلے ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت تحریک انصاف کے ساتھ بالکل اسی طرح کی واردات کی گئی جب اس کو ایک انتہائی متعصبانہ عدالتی فیصلے کے ذریعے انتخابی نشان اور بعد میں اکثریت سے محروم کر دیا گیا۔ عوامی لیگ کی سربراہ اور سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ نے اپنے حمایتیوں سے انتخابات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا ہے۔ کچھ اقلیتی امیدواروں کو بھی اہم حلقوں میں انتخاب لڑنے سے روکا گیا ہے۔ جس نے مقامی اور بین الاقوامی سطح پہ........
