menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Ye To Baba Bhi Sunte Hain

30 0
28.08.2026

یہ تو بابا بھی سنتے ہیں

ہم انسان بھی عجیب مخلوق ہیں۔ ہم چہرے دیکھ کر فیصلے کرتے ہیں، لباس دیکھ کر کردار لکھتے ہیں، داڑھی دیکھ کر تقویٰ کا سرٹیفکیٹ جاری کر دیتے ہیں، پیشانی پر محراب دیکھ کر انسان کو ولی سمجھ لیتے ہیں اور پھر اس کے بارے میں اپنی رائے کو اس قدر مقدس بنا لیتے ہیں کہ حقیقت سامنے آنے کے بعد بھی اسے تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ہم دوسروں کو اچھا سمجھ لیتے ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہم انہیں بغیر جانے اچھا سمجھ لیتے ہیں۔ ایک شخص سفید لباس پہنتا ہے نرم لہجے میں گفتگو کرتا ہے، مجلس میں بیٹھ کر دین کی باتیں کرتا ہے، ہر دوسرے جملے میں اللہ کا نام لیتا ہے اور لوگوں کو نصیحتیں کرتا ہے تو ہم فوراً اس کے باطن کا فیصلہ کر لیتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے یہ شخص ضرور نیک ہوگا متقی ہوگا حلال و حرام کا فرق جانتا ہوگا اور شاید ہماری اپنی اصلاح بھی کر دے گا حالانکہ لباس کردار کی ضمانت نہیں ہوتا الفاظ تقویٰ کا ثبوت نہیں ہوتےاور ظاہری عبادت ہمیشہ باطنی پاکیزگی کی دلیل نہیں ہوتی۔

میں بھی ایک ایسے ہی شخص کے تقوی کا معترف تھا میں اسے نیک سمجھتا تھا متقی سمجھتا تھا اس کی باتوں سے متاثر تھا اور شاید دل ہی دل میں اسے اپنے سے بہتر انسان بھی سمجھتا تھا پھر ملاقاتیں بڑھیں، محفلیں ہوئیں، گیدرنگز میں بیٹھنے کا موقع ملا اور آہستہ آہستہ وہ پردہ اٹھنے لگا جس کے پیچھے ایک دوسرا انسان چھپا ہوا تھا۔ تب معلوم ہوا کہ بعض لوگ دوسروں کو دین سمجھاتے سمجھاتے خود اپنے نفس کو بھول جاتے ہیں۔ ایک دعوت میں ہم سب اکٹھے بیٹھے تھے کھانا ہو چکا تھا موبائل ہر شخص کے ہاتھ میں تھا حسبِ معمول گپ شپ چل رہی تھی ماحول خوش گوار تھا، اسی دوران اس شخص کے بیٹے نے موبائل پر ایک گانا چلا........

© Daily Urdu (Blogs)