Tehbeeb Ki Saji Mehfil
شارجہ میں ادبی ستاروں کی روشنی میں سجی ایک عالمی محفل، جس میں ادبی تنظیم تحبیب کے سی ای او جناب طارق فیضی کی صاحبزادی مہرین فاطمہ کی یادگار شادی مں عقد ہوئی۔
گلوبل ادبی تنظیم "تحبیب" محض ایک ادبی پلیٹ فارم نہیں بلکہ فکر و فن کی ایک ایسی روشن تحریک ہے جو دلوں کو لفظ کے رشتے میں پروتی ہے۔ یہ تنظیم ادب کو محفلوں کی زینت بنانے کے بجائے معاشرتی شعور کی آواز بناتی ہے۔ تحبیب نے نئے لکھنے والوں کو اعتماد دیا، سنجیدہ قلم کاروں کو وقار بخشا اور مکالمے کی ایک مہذب روایت کو فروغ دیا ہے۔
اس کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والی نشستیں، فکری مذاکرے، کتابوں کی تقاریبِ رونمائی اور تخلیقی ورکشاپس ادب کو زندگی سے جوڑنے کا عملی اظہار ہیں۔ تحبیب کا نصب العین محبت، رواداری اور فکری ہم آہنگی ہے، اسی لیے اس کے حلقے میں شامل ہونے والا ہر قلم کار خود کو ایک خاندان کا فرد محسوس کرتا ہے۔
تحبیب دراصل لفظ کی حرمت، خیال کی آزادی اور تہذیب کی پاسداری کا ایک باوقار استعارہ ہے۔
گزشتہ دنوں خوشیوں نے ایک ایسی دستک دی جس کی بازگشت صرف ایک خاندان تک محدود نہ رہی بلکہ اہلِ دل کے وسیع حلقوں میں سنائی دی۔ یہ محض ایک شادی کی تقریب نہ تھی بلکہ تہذیب، محبت، وقار اور دعاؤں سے آراستہ ایک ایسا روحانی اجتماع تھا جس نے دلوں کو نرم روشنی سے بھر دیا۔ ادبی تنظیم تحبیب کے سی ای او، جناب محمد طارق فیضی کی صاحبزادی مہرین فاطمہ کی شادی بخیر و خوبی انجام پائی اور اس پرنور موقع نے ایک یادگار لمحے کو تاریخِ دل میں ثبت کر دیا۔
کرالوی کے شاندار ریزورٹ شارجہ میں منعقد ہونے والی یہ تقریب حسنِ ترتیب اور نفاست کا ایسا امتزاج تھی جس میں ہر منظر ایک مکمل تصویر دکھائی دیتا تھا۔ روشنیوں کی قطاریں یوں جگمگا رہی تھیں جیسے ستارے زمین پر اتر آئے ہوں۔ پھولوں کی مہک، مہمانوں کی مسکراہٹیں اور پس منظر میں چلتی ہوئی دعاؤں کی خاموش صدائیں، یہ سب مل کر اس تقریب کو ایک روحانی فضا عطا کر رہے تھے۔
لیکن اگر اس تقریب کی اصل روح کو تلاش کیا جائے تو وہ شخصیت جناب طارق فیضی کی تھی۔ ایک........
