Tanqeed Ke Shor Mein Taraqi Ki Nai Parwaz, Air Punjab
تنقید کے شور میں ترقی کی نئی پرواز، ائر پنجاب
لاہور کی فضا میں ایک نئی پرواز کی سرگوشی سنائی دے رہی ہے۔ یہ محض ایک ایئرلائن کے آغاز کی خبر نہیں بلکہ ایک ایسے وژن کی علامت ہے جو صوبائی سطح پر ترقی، خود انحصاری اور عوامی سہولت کے نئے باب رقم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے اپنی فضائی سروس کے قیام اور اس کی تیز رفتار تکمیل کا اعلان دراصل اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اب ترقی کا تصور صرف سڑکوں اور عمارتوں تک محدود نہیں رہا بلکہ فضاؤں تک پھیل چکا ہے۔
صوبے کی فلیگ شپ ایئرلائن Air Punjab کے اپریل میں آپریشنل ہونے کی خبر نے ایک طرف عوامی دلچسپی کو بڑھایا ہے تو دوسری طرف سیاسی بحث کو بھی جنم دیا ہے۔ مگر کسی بھی بڑے منصوبے کی طرح اس منصوبے کے گرد بھی تعریف اور تنقید دونوں کی فضا موجود ہے۔ سوال یہ نہیں کہ تنقید کیوں ہو رہی ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ تنقید حقیقت پر مبنی ہے یا محض سیاست۔ کسی بھی خطے کی ترقی کا اندازہ اس کے انفراسٹرکچر سے لگایا جاتا ہے۔ ہوائی سفر جدید معیشت کی شہ رگ سمجھا جاتا ہے۔ کاروبار، سیاحت، سرمایہ کاری اور انسانی نقل و حرکت، سب کچھ فضائی رابطوں کی رفتار سے جڑا ہوتا ہے۔ ایسے میں اگر پنجاب جیسا بڑا صوبہ اپنی ایئرلائن قائم کرتا ہے تو یہ محض ایک ادارے کا قیام نہیں بلکہ ایک معاشی حکمتِ عملی کا آغاز ہے۔
ابتدائی مرحلے میں سات طیاروں کے ساتھ اندرونِ ملک پروازوں کا آغاز ایک محتاط اور دانشمندانہ فیصلہ ہے۔ یہ وہی طریقہ ہے جسے دنیا کی بڑی ایئرلائنز نے بھی اپنایا، پہلے سسٹم کو مستحکم کریں، پھر پھیلاؤ کی طرف جائیں۔ پہلے دو سال صرف مقامی روٹس پر توجہ دینا اس بات........
