Trump Card Nakam
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پچھلے ایک سال کی گفتگو کا تنقیدی جائزہ لیا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ ایک فرعون تھا جس کے غرور نے پوری دنیا کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ کل تک یہی ٹرمپ کہتا پھرتا تھا کہ میرے سامنے دنیا کی کوئی طاقت پر نہیں مارسکتی ہے اور میں جس بھی ملک کو حکم دوں تو وہ میرے سامنے سر تسلیم خم کردیتا ہے اور دنیا کے کسی حکمران کی ہمت نہیں ہے کہ وہ ٹرمپ کو انکار کرے۔
ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ وہ دنیا کے کسی بھی ملک میں جاکر اس کی سر زمین استعمال کرسکتا ہے اور اس کے ہوائی اڈوں کو تصرف میں لا سکتا ہے جبکہ کسی میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ وہ ٹرمپ کو انکار کرے۔ ٹرمپ کے تکبر اور رعونت میں اس وقت مزید اضافہ ہوگیا جب پاکستان اور انڈیا نے ٹرمپ کے کہنے پر جنگ روک دی اور بعد میں ایران پر اپنے طیاروں سے بمباری کرنے کے بعد امریکہ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام کو ہم نے تباہ کردیا ہے اور اب ایران سے ہمیں اور اسرائیل کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔
اس جارحانہ اقدام کے بعد جب ٹرمپ نے ایران اسرائیل جنگ روکنے کا حکم دیا تو دونوں ملکوں میں ہمت نہ تھی کہ وہ ٹرمپ کو منع کرتے۔ پھر وینزویلا کے صدر کو صدارتی محل سے اغوا کرکے امریکہ میں قید کرنے کے بعد ٹرمپ کا غرور آسمانوں پر پہنچ گیا تھا۔ پچھلے چند ماہ میں ٹرمپ اس طرح ظاہر کرنے لگا تھا جیسے وہ زمین کا مالک ہے اور ساری دنیا اس کے اشاروں کی منتظر ہے اور دنیا کے تمام وسائل اس کی ملکیت ہیں یہی وجہ ہے کہ وینزویلا کے تیل پر ہاتھ صاف کرنے کے بعد ایرانی پٹرول اور گیس کے لالچ میں امریکہ اپنے بحری بیڑے لے کر مشرق وسطیٰ پہنچ گیا اور ایک بار پھر دعویٰ کرنے لگا کہ ایران کے پاس جوہری طاقت موجود ہے جسے ختم کئے بغیر دنیا کا امن قائم نہیں رہ سکتا ہے۔
گزشتہ ماہ امریکہ کے اشارے پر اسرائیل نے ایران........
