menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

McNamara Fallacy Se Trump Fallacy Tak Ka Jangi Junoon

32 0
22.06.2026

میکنامار فالیسی سے ٹرمپ فالیسی تک کا جنگی جنون

مشہور امریکی بین الاقوامی تعلقات کے ماہر جان میرشائمر (John Mearsheimer) نے 29 جنوری 2026 کو سابق فوجی تجزیہ کار ڈینی ڈیوس کے ساتھ ایک پروگرام ڈیپ ڈائیوو میں واضح کہا تھا کہ ٹرمپ کے پاس ایران کے خلاف کوئی اچھا فوجی آپشن نہیں ہے اور حملہ کرنا احمقانہ عمل ہوگا۔

امریکی اور یورپی مبصرین بھی ایران پر جنگ مسلط کرنے کے خلاف تھے جن میں کولن پاؤل، نوم چومسکی، جیفری ساش، ٹکر کارلسن، تھامس میسی، رینڈپال، تلسی گبارڈ اور جو کینٹ قابل ذکر تھے۔

دوسری جانب امریکی انٹیلیجنس چیفس نے بھی ٹرمپ کو بہت سنگین بریفنگز دیں تھیں اور بتایا کہ ایرانی پاسداران انقلاب (IRGC) حملے کے بعد مزید مضبوط ہو سکتا ہے یعنی حملہ رجیم کو کمزور کرنے کے بجائے مزید مضبوط کرے گا۔ ماضی میں ویت نام کی جنگ میں امریکی وزیر دفاع رابرٹ میکنامار کی وجہ سے امریکہ کو تاریخ کی شرمناک ہزیمت اٹھانی پڑی تھی۔ بالکل اسی طرح پیٹ ہیگسیتھ جیسے جنونی وزیر دفاع نے بھی میک نامارا فیلسی جیسی فکری غلطی دہرائی ہے اور ٹرمپ انتظامیہ نے اس پر لبیک کہا۔

میک نامارا فالیسی ایک معروف اصطلاح ہے جو امریکی وزیرِ دفاع Robert McNamara کے نام سے منسوب ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ "جنگ میں صرف ان چیزوں کو اہم سمجھنا جنہیں اعداد و شمار میں ناپا جا سکتا ہو اور ان چیزوں کو نظر انداز کر دینا جنہیں ناپنا مشکل ہو لیکن جو حقیقت میں زیادہ اہم ہوں"۔

حالیہ جنگ میں بھی امریکہ نے ایران پر شدید بمباری کی اور آغاز ہی مناب میں معصوم بچیوں کے اسکول پر حملہ کرکے کیا جس میں چھ سے بارہ سال کی ایک سو ستر بچیاں شہید ہوئیں۔ امریکہ نے ایران پر ہزاروں فضائی اور میزائل حملے کیے، بمباری کی شکل میں طاقت کا استعمال کیا گیا۔ لیکن اس........

© Daily Urdu (Blogs)