menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Abraha Sani

25 0
26.02.2026

تاریخِ عالم میں ابرہہ کے بعد اگر کوئی دوسرا ایسا ملعون گزرا ہے جس نے خانہ کعبہ کو ڈھانے، مدینہ منورہ سے (نعوذ باللہ) آقاﷺ کا جسدِ مبارک چوری کرنے اور دریائے نیل کا رخ موڑ کر پورے عالمِ اسلام کو قحط سے مارنے کا شیطانی منصوبہ بنایا، تو وہ پرتگالی سپہ سالار افونسو ڈی البوکرک تھا۔ یہ وہ درندہ صفت انسان تھا جس نے پندرہویں صدی کے آخر میں اپنی پوری زندگی مکہ اور مدینہ کی مرکزیت کو مٹانے کے لیے وقف کر دی تھی۔

افونسو ڈی البوکرک پرتگال کے ایک کٹر مذہبی اور جنگجو خاندان میں پیدا ہوا۔ اسے مسلم دشمنی گھٹی میں پلائی گئی تھی۔ اس کا باپ گونسالو ڈی البوکرک اور دادا گونسالو ثانی پرتگال کے وہ کٹر جنگجو تھے جنہوں نے مراکش کی گلیوں میں مسلمانوں کا خون بہا کر "صلیبی تمغے" جیتے تھے۔ البوکرک نے لوریوں میں مسلمانوں سے نفرت اور انتقام کے قصے سنے تھے۔ وہ ہوش سنبھالتے ہی یہ طے کر چکا تھا کہ وہ محض ایک سپہ سالار نہیں بنے گا، بلکہ وہ اس مرکز پر........

© Daily Urdu (Blogs)