menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Ghazal Aur Nazm Mein Farq

26 0
28.10.2026

غزل اور نظم میں بنیادی فرق

جذبات، خیالات، مشاہدات، تجربات اور افکار کو مترنم الفاظ میں پیش کرنے کا نام شاعری ہے۔ شاعری کا نام سنتے ہی طلبہ کے ذہن میں دو بڑی اصناف یعنی غزل اور نظم کا نام آتا ہے، مگر اکثر طلبہ ان دونوں اصناف کے درمیان فرق نہیں کرسکتے۔ بعض طلبہ جانسن کے اس قول کو حتمی قرار دیتے ہوئے سکون سے بیٹھ جاتے ہیں کہ: "شاعری مترنم خیالات کا اظہار ہے" اور بس!

تاہم بہت سے سمجھ دار طلبہ اپنی اس الجھن کو دور کرنے کے لیے نہ صرف ضخیم کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں، بلکہ وہ اس مقصد کے حصول کے لیے میرے جیسے کاہل اساتذہ کو بھی سکون سے بیٹھنے نہیں دیتے۔

اس ناچیز نے اپنے تھکے ماندے طلبہ کی ملاقات ڈاکٹر فرمان فتح پوری کے لازوال مے کدے "اردو شاعری کا فنی ارتقاء" پر ساقی ڈاکٹر مسعود حسین خان سے کرائی، پھر یکے بعد دیگرے ان کے بادہ بھر جام سے مخمور ہوتے رہے۔ ؎

بات بنتی نہیں بادہ و ساغر کہے بغیر

غزل اور نظم میں شعریت ایک ایسی قدر مشترک ہے جیسا کہ مرد اور عورت میں انسانیت۔ غزل عورت مزاج اور نظم مرد صفت ہے۔ شاعری کے فروغ کے لیے غزل اور نظم کا فرق ممکن بھی ہے، مستحسن بھی اور ضروری بھی، بہ صورتِ دیگر تیسری جنس وجود میں آسکتی ہے۔

غزل مشرق کی اور نظم مغرب کی پیداوار ہے۔ نظم مادی نقطۂ نظر اور غزل روحانی نقطہ نظر کا ثمر ہے۔ مغرب میں فرد کا خاندان سے رشتہ مضبوط نہ ہونے کے باعث انفرادی شخص اپنی بقا کی جنگ اکیلے لڑنے کی وجہ سے ہمہ وقت مصروف عمل رہتا ہے اور اس کو خود سے ملنے کے لیے وقت کم ملتا ہے۔ جب کہ (غزل) مشرق میں فرد اور خاندان کا رشتہ مضبوط ہے۔ یہاں تمام مسائل اور بقا کی جنگ متفقہ طور پر حل کیے جاتے ہیں، اس لیے فرد کے ساتھ مصروفیت نہ ہونے کی وجہ سے کافی وقت ہے کہ وہ خود سے ملے۔ باالفاظ دیگر........

© Daily Urdu (Blogs)