5 July: Qanoon Aur Tehzeeb Ka Qatal
5 جولائی: قانون اور تہذیب کا قتل
پاکستان کی زندگی میں 5 جولائی وہ تاریخ ہے جس کی صبح پاکستانیوں کے لئے سحر نہیں قہر کا سورج لئے طلوع ہوئی۔ 5 جولائی 1977 کی شب ایک ڈکٹیٹر جنرل ضیا کا فوجی شب خون پاکستان میں قانون اور تہذیب کا قتل تھا۔ پاکستان میں تاریخ اور سوچ کی معروضیت کے تناظر میں سچ نہیں لکھا جاسکتا، اب یہاں صرف قتل کا بازار گرم ہے۔ 5 جولائی1977 کی آمد پر ذوالفقار علی بھٹو نے بہت کچھ کہا تھا، آئیے اس صدائے بازگشت کی ذہنی فلم کے مناظر میں آج کے پاکستان کا چہرہ پہچاننے کی کوشش کریں۔ ذوالفقار علی بھٹو کا کہنا تھا۔
"بگاڑ کا یہ عمل 5 جولائی 1977 کو شروع نہیں ہوا تھا بلکہ اس کا آغاز اس وقت ہوگیا تھا جب اکتوبر 1954 کو پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کو تحلیل کردیا گیا۔ پاکستان کی وفاقی عدالت نے اسمبلی کی تحلیل کو اس مبہم عمومی سچائی پر جائز قرار دے دیا کہ لوگوں کی فلاح و بہبود ہی اعلیٰ ترین قانون ہے۔ حالات بڑی سنگدلی کے ساتھ حتمی تصادم کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس کا انجام انتہائی بھیانک بھی ہوسکتا ہے۔ سپین بھی اس طرح کے تصادم سے دو چار ہوچکا ہے، چالیس سال کا عرصہ بیت چکا ہے لیکن ہسپانوی عوام کو اس وقت کی یادیں ایک ڈرائونے خواب کی طرح آج بھی ڈراتی ہیں، سپین آج بھی ان زخموں کی وجہ سے لنگڑارہا ہے۔ مغربی مورخ یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ سپین سے اسلام کا نام مٹانے میں فرڈینڈ اور ازابیلا کا ہاتھ ہے۔ اسلام اپنے غرناطہ تک اس وجہ سے پہنچا کہ مسلم دشمن نے غداری کی اور اس کے خلاف حد سے کام لیا تھا۔ سپین پاکستان کو دو طرح سے انتباہ کرتا ہے۔ ان میں سے ایک........
