Aspirants Life
فیسبک پر تقریباً تین سال بعد اس کی تصویر دیکھی جس میں موصوف نے الحمد اللہ کی کیپشن دی ہوئی تھی۔ تصویر میں ایک 34 سالہ شخص موجود تھا اور اس کے پیچھے سفید رنگ کا ڈبل کیبن ڈالا جس پر نیلی بتی اور سبز نمبر پلیٹ نمایاں تھی۔ محترم تین سال پہلے نائب تحصیلدار کے عہدے پر فائز ہوئے تھے اور اب پرموشن ملنے کے بعد تحصیلدار بن گئے تھے۔ فیسبک پر یہ تصویر فقط بندہ ناچیز نے دیکھی بلکہ کئی نوجوان اسپرانٹ نے بھی دیکھی ہوگی۔ ہر ایک کے ذہن میں اس تصویر سے منسلک کہانی مختلف ہوگی۔ ان کئی کہانیوں میں سے ایک کہانی بندہ ناچیز بیان کرنے کی کوشش کرے گا۔ تو آئیں بسم اللہ کرتے ہیں۔
اس شخص کا تعلق بندہ ناچیز کے علاقے سے تھا جس کی وجہ سے کچھ معمولی نوعیت کی معلومات موجود تھیں۔ اس شخص نے ڈگری مکمل کرنے کے بعد تقریباً 8 سال بطور اسپرانٹ زندگی بسر کی۔ تین بار سی ایس ایس کا امتحان دیا اور دو بار پی ایم ایس لیکن وہی پہلے تو امتحان پاس نہیں ہوا اور جب امتحان پاس ہوا تو الوکیشن نہیں ملی۔ اس دوران جو زندگی اس بھائی نے گزاری ہوگی وہ بندہ ناچیز صرف تخیل کی حد تک سوچ سکتا ہے کیونکہ بندہ ناچیز بھی اسی دور سے گزر رہا ہے۔ جس سے شاہد نواز بھائی آج سے تقریباً آٹھ سال پہلے گزر چکے تھے۔ ہر اسپرانٹ کی زندگی میں کئی مرحلے آتے ہیں۔
پہلا مرحلہ جو مڈل کلاس اسپرانٹ کو پیش آتا ہے۔ وہ ہے بنیادی تصورات سے ناآشنائی۔ اگر دیکھا جائے........
