menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Mabaad Ikhlaqi Riyakari

16 0
28.10.2026

مابعدالاخلاقی ریاکاری

ہمارے معاشرے کا المیہ صرف یہ نہیں کہ یہاں غلط کام کرنے والے لوگ موجود ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ بہت سے لوگ اپنے غلط کاموں کے لیے ایسے نظریاتی، مذہبی، سماجی اور نفسیاتی جواز تراش لیتے ہیں کہ ان کے نزدیک اپنی خطا کا اعتراف کرنا گویا اپنی شخصیت کی نفی کرنے کے مترادف ہو جاتا ہے۔ جھوٹ بولنے والا اسے مصلحت کا نام دیتا ہے، رشوت لینے والا اسے نظام کی مجبوری قرار دیتا ہے، دوسروں کا حق دبانے والا اسے کاروباری حکمتِ عملی کہتا ہے، اختیار کا ناجائز استعمال کرنے والا اسے انتظامی ضرورت بنا کر پیش کرتا ہے اور استحصال کرنے والا اپنی خود غرضی کو معاشی حقیقتوں کے پردے میں چھپا دیتا ہے۔ یوں اخلاقیات ایک مستقل اصول کے بجائے ایک قابلِ ترمیم دستاویز بن جاتی ہیں، جس میں ہر شخص اپنے مفاد کے مطابق دفعات شامل کرتا اور اپنے خلاف جانے والی شقوں کو حذف کرتا رہتا ہے۔

ذرا ملا، پنڈت، پادری، مذہبی واعظ، خطیب، ذاکر، روحانی پیشوا، پیر، سجادہ نشین، مذہبی مدرس، مبلغ اور مذہبی تنظیموں کے ذمہ داران کو دیکھیے۔ ان تمام کرداروں کو ایک ہی ترازو میں تولنا نہ علمی دیانت ہے، نہ اخلاقی انصاف، ان میں بے شمار مخلص، صاحبِ کردار اور خدمت گزار انسان بھی موجود ہیں۔ لیکن جب ان میں سے کوئی شخص تقدس کو اپنی ذاتی برتری کا وسیلہ، عقیدت کو مالی منفعت کا ذریعہ، مذہبی وابستگی کو سیاسی اثر و رسوخ کا ہتھیار، یا عوام کی سادہ لوحی کو استحصال کا موقع بنا لیتا ہے تو اس کا طرزِ عمل محض شخصی کمزوری نہیں رہتا، بلکہ اعتماد کے اس اخلاقی معاہدے کی خلاف ورزی بن جاتا ہے جس پر مذہبی رہنمائی کی معنویت قائم ہوتی ہے۔ جو شخص دوسروں کو تقویٰ، صداقت، عدل، ایثار اور اخلاص کی تلقین کرے، مگر اپنے معاملات میں انہی اصولوں سے انحراف کرے، اس کے الفاظ کی کثرت اس کے کردار کی کمی پوری نہیں کر سکتی۔

کسی مذہبی پیشوا کا لباس، کسی ملا کی دستار، کسی پنڈت کی مذہبی شناخت، کسی پادری کا منصب یا کسی روحانی شخصیت کے گرد قائم عقیدت کا حصار بذاتِ خود اس کے کردار کی ضمانت نہیں۔ اسی طرح ان میں سے کسی کی ایک غلطی کو بنیاد بنا کر تمام مذہبی شخصیات کو ریاکار قرار دینا بھی فکری بددیانتی ہوگی۔ اصل سوال یہ ہے کہ مذہبی اختیار کو کس طرح استعمال کیا جا رہا ہے، کیا سوال کرنے والے کو جواب دیا جاتا ہے، کیا چندے اور عطیات میں شفافیت ہے، کیا کمزور اور طاقتور کے لیے یکساں اخلاقی معیار اختیار کیا جاتا ہے اور کیا مذہبی تعلیم انسان کو زیادہ منصف، زیادہ دیانت دار اور زیادہ رحم دل بناتی ہے؟ اگر مذہب انسان کو اپنے نفس کے احتساب کے بجائے دوسروں کی تحقیر کا وسیلہ بنا دے تو مسئلہ مذہب کی تعلیم میں نہیں، اس کے نام پر قائم کیے جانے والے مفاداتی ڈھانچے میں تلاش کرنا چاہیے۔

اس کے بعد ان نیم لبرل، نیم روشن خیال اور نام نہاد ترقی پسند کرداروں کو دیکھیے جو آزادیِ فکر، انسانی حقوق، انفرادی خود مختاری، مساوات اور رواداری کی اصطلاحات تو بڑی خوش اسلوبی سے استعمال کرتے ہیں، مگر ان اصولوں کا اطلاق اپنی پسند اور ناپسند کے مطابق کرتے ہیں۔ انہیں آزادیِ اظہار اس وقت تک عزیز رہتی ہے جب تک اظہار ان کے نظریاتی حصار کو نقصان نہ پہنچائے، انہیں اختلافِ رائے اس وقت تک قابلِ قبول ہوتا ہے جب تک اختلاف کرنے والا ان کی سماجی حیثیت کو چیلنج نہ کرے، انہیں انسانی حقوق کی پامالی پر غصہ اس وقت تک آتا ہے جب تک مظلوم ان کے اپنے حلقے سے تعلق رکھتا ہو۔ ایسے رویے کو روشن خیالی کہنا مشکل ہے، کیونکہ روشن خیالی کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے پسندیدہ نظریات کو بھی تنقیدی سوالات کے سامنے پیش کرنے کا حوصلہ رکھے۔ آزادی اگر صرف اپنی خواہشات کی تکمیل اور دوسروں کو خاموش کرانے کا نام بن جائے تو یہ آزادی نہیں، نظریاتی استبداد کی ایک لطیف صورت ہے۔

لیکن یہ بات بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ ہر لبرل منافق نہیں، ہر مذہبی شخص متعصب نہیں اور ہر نظریاتی اختلاف اخلاقی انحطاط کی علامت نہیں۔ انسانوں کے درمیان اختلاف فطری ہے، اصل امتحان یہ ہے کہ اختلاف کے باوجود دلیل، انصاف اور انسانی وقار کا احترام برقرار رہتا ہے یا نہیں۔ جو شخص اپنے مخالف کو محض اس لیے جاہل، رجعت پسند، ملحد، شدت پسند یا ناقابلِ برداشت قرار دے کہ وہ اس سے مختلف رائے رکھتا ہے، وہ بھی اسی فکری تنگ نظری کا شکار ہے جس کا الزام وہ دوسروں پر عائد کرتا ہے۔ نظریے کی عظمت اس کے نام میں نہیں، اس کی اخلاقی معنویت اور عملی نتائج میں ہوتی ہے۔

سیاست دانوں، ارکانِ اسمبلی، وزرا، مشیروں، پارٹی رہنماؤں، سیاسی کارکنوں، انتخابی امیدواروں، مقامی نمائندوں اور اقتدار کے ایوانوں میں گردش کرنے والے مشیروں کا معاملہ بھی کچھ مختلف نہیں۔ سیاست کا بنیادی مقصد اجتماعی زندگی کی تنظیم، عوامی وسائل کی منصفانہ تقسیم، بنیادی حقوق کا تحفظ اور اقتدار کو جواب دہ بنانا ہونا چاہیے۔ لیکن جب سیاسی نظریہ ذاتی وفاداری، خاندانی تسلط، انتخابی مفاد، گروہی تعصب اور تشہیری مہم میں تحلیل ہو جائے تو سیاسی شعور کی جگہ شخصیت پرستی لے لیتی ہے۔ پھر اپنے رہنما کی بدعنوانی کو سیاسی انتقام کہا جاتا ہے، مخالف کی انتظامی غلطی کو قومی........

© Daily Urdu (Blogs)