Dhaka Mein Manto Par Conference
ڈھاکہ میں منٹو پر کانفرنس
کل ڈھاکہ میں ڈیفوڈلز انٹرنیشنل یونیورسٹی کے شعبہ انگریزی نے منٹو پر ایک کانفرنس منعقد کی۔ میرے لیے بنگلہ دیش کے لوگوں سے بات کرنا ایک جذباتی لمحہ تھا۔ میزبانوں نے بھی مسلسل خلوص کا اظہار کیے رکھا۔
مقررین بنگلہ دیش اور ہندوستان سے تھے۔ پاکستان سے میں (آن لائن) شریک تھا۔ کافی اہم باتیں ہوئیں، مگر سب سے اہم بات یہ تھی کہ منٹو، جنوبی ایشیا کے تین اہم ملکوں میں، جن کے ثقافتی اشتراکات، نظریاتی وسیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھتے رہتے ہیں، قدر مشترک کے طور پر تسلیم کیا گیا۔
منٹو، اردو اور انگریزی ہی میں نہیں، جنوبی ایشیا کی اکثر زبانوں میں سب سے زیادہ ترجمہ ہونے والا اور پڑھا جانے والا ادیب ہے۔ منٹو کو یہ مقام خود اس کی اپنی تحریروں کے سبب ملا ہے۔
ربی شنکر بل کا ناول دوزخ نامہ، بنگالی........
