Khuddam Ul Hujjaj
قوموں کا حقیقی اثاثہ اور اس کا عالمی وقار صرف اس کی جغرافیائی حدود، دفاعی حصار یا معاشی اعداد و شمار سے طے نہیں ہوتا، بلکہ اس بات سے بھی مشروط ہوتا ہے کہ وہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی اخلاقی اور انتظامی ذمہ داریوں کو کس حسنِ اسلوب کے ساتھ نبھاتی ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حوالے سے حج کا انتظام و انصرام محض ایک سالانہ انتظامی مشق نہیں، بلکہ یہ کروڑوں دلوں کی عقیدت اور ریاست کی ساکھ کا معاملہ ہے۔
ماضی کی تاریخ گواہ ہے کہ جہاں قدیم دور میں سلطنتیں اور ریاستیں اپنے زائرین کے لیے راستوں کو محفوظ بنانے اور ان کی سفری سہولیات کے لیے خصوصی کاروان تشکیل دیا کرتی تھیں، وہیں جدید دور میں یہ ذمہ داری منظم اداروں کے سپرد کی گئی ہے۔ لیکن اگر ہم پاکستان کے ماضی کے حج مشنز کا تاریخی جائزہ لیں تو ایک طویل عرصے تک یہ شعبہ شدید انتظامی بے تدبیری، اقربا پروری اور کرپشن کے سنگین الزامات کی زد میں رہا ہے۔
ایک ایسا دور بھی تھا جب خدام الحجاج کی سلیکشن کے لیے کوئی ٹھوس اور شفاف معیار موجود نہ تھا، من پسند افراد، سفارشوں اور سیاسی بنیادوں پر ایسے لوگوں کو نوازا جاتا تھا جن کا مقصد خدمتِ حجاج سے زیادہ ذاتی تفریح یا محض مفت حج کی سعادت حاصل کرنا ہوتا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا تھا کہ مکہ اور مدینہ کی گلیوں میں پاکستانی حجاج بے یار و مددگار پھرتے نظر آتے تھے، رہائش اور ٹرانسپورٹ کے ناقص انتظامات پر........
