Badalta Mausam Aur Taleemi Nizam Ki Behissi
سن 80 اور 90 کی دہائی ہمارے بچپن اور لڑکپن کا زمانہ تھا اس زمانے میں سردیاں عموماً نومبر میں ہی شروع ہو جاتی تھی۔ دسمبر اور جنوری میں اپنے فل جوبن پر ہوتی تھیں۔ صبح وشام یخ بستہ ہوائیں چلتی تھی اور سرد ماحول میں لوگ بستروں پر رضائیوں میں اپنے آپ کو سردیوں سے محفوظ کرنےکے لئے قید کر دیتے تھے، جبکہ گرمیاں جون اور جولائی میں ہوتی تھیں اور بھرپور شدت کے ساتھ ہوتی تھیں ایسی گرمیاں کہ جس میں باہر نکلنا اور کام کاج کے لئےجانا بھی ایک دل گردے کا کام ہوتا تھا۔
لیکن دس بارہ سال ہو چکے ہیں کہ کراچی سمیت سندھ میں یہ موسمی صورتحال تبدیل ہو چکی ہے اب گرمیاں جون جولائی کی نسبت اپریل اور مئی میں زیادہ سخت ہوتی ہیں پوری شدت والی گرمی ہوتی ہے جبکہ جون اور جولائی میں اس کے نسبت معمولی کم ہوجاتی ہے۔ کبھی بادل کبھی ہوائیں چلتی رہتی ہیں جس سے گرمی کا زور ٹوٹ جاتا ہے، جبکہ سردیاں نومبر کے بجائے دسمبر کے اواخر سے شروع ہوا کرتی ہے۔ کبھی کبھی جنوری کے ابتدا سے شروع ہوتی ہیں اور پھر جنوری، فروری، مارچ کے نصف ماہ تک دورانیہ ہوتا ہے۔ پندرہ مارچ تک کراچی سمیت سندھ میں پنکھوں کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔
کراچی اور سندھ کے علاوہ ملک کے دیگر علاقوں پنجاب یا بالائی علاقوں اسلام آباد، خیبر پختونخواہ، گللگت بلتستان بشمول آزاد کشمیر میں تقریباً وہی پرانی روایت اب تک برقرارہے۔ سردیوں کا بھی........
