Mulk Ko Dakhli Istehkam Aur Subai Ham Ahangi Ki Ashad Zaroorat Hai
ملک کو داخلی استحکام اور صوبائی ہم آہنگی کی اشد ضرورت ہے
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس وقت عالمی امن کے لئے پاکستان کی ثالثی کردار سے دنیا معترف ہے، جو کہ ہم سب کے لیے باعث عزت و فخر ہے۔ لیکن اپنے ملک میں داخلی استحکام اور صوبوں کے درمیان مختلف معاملات میں ہم آہنگی کی سخت ضرورت ہے۔ کرنل تھامس جیسے لارنس آف عربیہ کے نام سے دنیا جانتی ہے اس کے نام اور کام سے کون واقف نہیں ہے جس نے عربوں اور ترکوں کے درمیان قومیت علاقائیت زبان کے نام پر ایسا زہر ڈال دیا جس نے مختصر عرصہ میں تین براعظموں پر مشتمل سلطنت عثمانیہ کو نگل لیا۔ گو کہ سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کو ایک صدی سے بھی زیادہ عرصہ گزرا ضرور ہے لیکن اس ناقابل تلافی نقصان سے لگے زخم آج تک مندمل نہ ہوسکے۔ ایک کرنل لارنس نے کس طرح مسلمانوں میں پھوٹ ڈال کر انھیں ہمیشہ کے لئے پشیمانی کا داغ دے ڈالا۔ تقسیم ہند کے وقت بھی اسی طرح کی چالیس چلی گئی تھی۔
یوں قیام پاکستان سے ہی قبل تھامس ایڈورڈ لارنس جیسے لوگ سرگرم عمل ہوگئے جس کا نتیجہ برصغیر کی تقسیم کے وقت دیکھنے کو ملا جس کی بدولت کئی مسلم اکثریت والے علاقے ہندوستان میں رہ گئے۔ جان بوجھ کر اس طرح کیا گیا تاکہ پاکستان میں عدم استحکام رہے۔
پاکستان کے قیام کو تین عشرے بھی پورے نہیں گزرے ملک کو دولخت کردیا گیا اور باقی ماندہ پاکستان بھی عدم استحکام کا شکار رہا پھر بھی ملکی حالات آج سے لاکھ گنا بہتر تھے۔ لوگ کسی حدتک حکومتی کارکردگی سے مطمئن لگتے تھے۔ چاہئے معاشی۔ اقتصادی ہو یا سیاسی انتظامی قانونی غرض تمام اداروں کی کارکردگی سے کسی حد تک لوگ مطمئن نظر آتے تھے۔ لیکن 2006 کے بعد ملک میں ایسا گھناؤنا کھیل شروع کیا گیا جس نے ہر آنے والا دن کو بھیانک خواب میں تبدیل کردیا اور یہ........
